چودھویں اور پندرھویں صدی ہجری کا سنگم — Page 290
290 مسیح موعود پر ایمان لانے کی ضرورت؟ ہونے میں۔پھر چودہویں صدی بھی ختم ہو گئی۔بعض جاہل مولویوں نے تو۔۔۔کہا کہ چودہویں صدی لمبی ہوگئی ہے ابھی ختم ہی نہیں ہو رہی۔پھر شاید کسی نے سمجھایا کہ یہ کیا جہالت کی باتیں کرتے ہو۔پھر کچھ نام نہاد پروفیسروں اور ڈاکٹر علماء کو بھی اپنی علمیت کے اظہار کرنے کا موقع ملا، لوگوں کو اکٹھا کرنے کا موقع ملا۔تو انہوں نے یہ مؤقف اختیار کیا کہ مسیح و مہدی کی آمد تو قرب قیامت کی نشانی ہے اس لئے ابھی وقت نہیں آیا۔۔۔اور بعض عرب علماء نے اپنے پہلے نظریہ کے خلاف یہ تو تسلیم 6** کر لیا۔۔۔کہ حضرت عیسی کی وفات ہو چکی ہے اور ساتھ یہ بھی کہنے لگ گئے کہ مسیح کی آمد ثانی کی جواحادیث ہیں وہ ساری غلط ہیں، اب کسی نے نہیں آنا۔اور یہ کہ ہم جوعلماء ہیں یا بعض ملکوں میں علماء کے ادارے ہیں دین کی تجدید کرنے کے لئے یہی کافی ہیں۔۔۔پھر انہوں نے جماعت کے خلاف جھوٹے فتووں کی بھر مار کر دی۔۔۔اور یہ فتوے صرف مسلمانوں میں احمدیوں کے خلاف نفرت اور فساد پھیلانے کے لئے جاری کئے گئے ہیں۔۔۔ان پر ہم حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے الفاظ میں صرف اتنا ہی کہتے ہیں بلکہ یہی دعا ہے کہ لَعْنَةُ اللهِ عَلَى الْكَاذِبِينَ وَالْفَاسِقِین۔اور ان فتوے دینے والوں کا معاملہ اللہ تعالیٰ کے سپرد کرتے ہیں۔۔۔ایک وقت تک تمام علماء اس بات پر متفق تھے کہ مسیح و مہدی کا ظہور چودہویں صدی میں ہو گا یا اس کے قریب ہوگا اور تمام پرانے ائمہ اور اولیاء اور علماء اس بات کی خبر دیتے آئے کہ یہ زمانہ جو آنے والا ہے مسیح و مہدی کے ظہور کا ہوگا اور جو اس زمانے کے لوگ تھے یعنی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانے کے یا قریب زمانے کے وہ تو مسلمانوں کے حالات دیکھ کر اس یقین پر قائم تھے کہ عنقریب مسیح و مہدی کا ظہور ہو گا۔اس زمانے میں جن لوگوں کو دین کا دردتھا خدا سے