چودھویں اور پندرھویں صدی ہجری کا سنگم

by Other Authors

Page 286 of 296

چودھویں اور پندرھویں صدی ہجری کا سنگم — Page 286

286 مسیح موعود پر ایمان لانے کی ضرورت؟ جفا کارمنکروں کا انجام تاریخ اپنے آپ کو دہراتی چلی آئی ہے۔قرآن شریف میں سورۃ ہود اور اس کی مثل دیگر سورتوں اور سورۃ الشعراء میں بھی منکروں اور تکذیب کرنے والوں کا ہولناک عبرت آموز انجام مذکور ہے۔ازمنہ رفتہ کی طاقتو را قوام عاد و ثمود وغیرہ نے جب اپنے رسولوں سے تکذیب واستہزاء کا سلوک کیا تو خدائے قہار کے قہر کا مورد بن کر ہمیشہ کے لئے ایسے راندہ درگاہ ہوئے کہ آج بھی ان پر لعنت برستی ہے۔وہ اہل بصیرت کے لئے عبرت کا نمونہ ہیں۔آج بھی خدائے قادر و جبار کی یہ تقدیر کون بدل سکتا ہے کہ ظالم کبھی بامراد نہیں ہوتے بلکہ ہمیشہ نا کامی کا منہ دیکھتے ہیں۔پس جس طرح خدا کے نام پر جھوٹا دعویدار سب سے بڑا ظالم ہوتا ہے اسی طرح خدا کے بچے مامور کی تکذیب و انکار کرنے والوں کو اللہ تعالیٰ بھی سب سے بڑا ظالم قرار دیتا ہے، وہ خدا کی گرفت سے بھی بچ نہیں سکتے اور ناکامی و نامرادی ان کا مقدر ہے (العنکبوت: 69) اس زمانہ میں یہ دونوں گروہ موجود اور اپنے آخری انجام کے منتظر ہیں۔پس دور حاضر کے مامور من اللہ پر ایمان لانے والوں کا بھی حضرت ھوڈ کی طرح آج یہی اعلان ہے کہ فانتظروا انى معكم من المنتظرين كه تم انتظار کرو، ہم بھی تمہارے ساتھ انتظار کرنے والوں میں سے ہیں۔خدائی سفیروں کی تو ہین کرنے والوں کے انجام کا ذکر حضرت مرزا طاہر احمد صاحب خلیفہ اسح الرابع نے ان پر شوکت الفاظ میں فرمایا :۔انبیاء کے دشمنوں کی وہ ساری تاریخ ایک کھلی ہوئی کتاب کی طرح میری آنکھوں کے سامنے پھر گئی جو بڑے بڑے مغرور اور سرکش بادشاہوں کے سرتوڑے جانے کی خبر دیتی ہے اور بڑی بڑی عظیم قوموں کی ہلاکت اور بربادی کی داستان بیان کرتی ہے۔جب کبھی ان بادشاہوں نے جن کے رعب اور ہیبت سے زمین کا نیا کرتی تھی اللہ کے سفیروں اور اس کے در کے فقیروں کو حقارت سے دیکھا اور ان کو رسوا کرنے کا ارادہ کیا تو اللہ کی غیرت اور جلال نے خود انہی کو ذلیل اور رسوا کر دیا