چودھویں اور پندرھویں صدی ہجری کا سنگم

by Other Authors

Page 26 of 296

چودھویں اور پندرھویں صدی ہجری کا سنگم — Page 26

26 قرآن کریم میں زمانہ ظہور مہدی ومسیح کی خبر عکس حوالہ نمبر : 1 فان الآية الكريمة من باب عطف المعمولين بعاطف واحد على عاملين مختلفين ، والمجرور مقدم : ومعنى هذه الآية الكريمة الثالثة : هو الذي بعث في الاميان رسولاً من الاميين ، وبعث فی آخرین رسلا من آخرين۔فكل امة لها رسول من نفسها۔وهؤلاء الرسل هم رسل الاسلا في الامم ، مثل انبياء بنى اسرائيل هم رسل التوراة في بنى اسرائيل۔وتقدم في الفصل (۱۵) الخامس عشر من فصول هذا الكتاب آيات في رسل الاسلام الى الامم (۶:۵۹) (۲۱ : ۵۸) (۱۷۱ : ۳۷) (۵۱ : ۲۳) (۱۷۹ :۳) وتعتقد ان كل كلمة في الكتاب الكريم لها إفادة ، وكل كلمة وجملة في الكتاب الكريم لها بلاغة وكل آيات في القرآن الكريم لها اعجاز ، وكل هذه العقائد الثلاث حقائق قطعية لا ريب فيها المؤمن ، ولا لاحد۔فاذا كان كذلك فحمل هذه الآيات على غير ما ذكرنا لا ينبغي لا حد من اهل العلم۔هذه ملاحظة۔ولعلها جليلة، مهمة۔ذكرتها لاهل الرغبة من كرام الطلبة لم ارها لاحد من اهل العلم ولا ا راني مخطئاً۔ومع كل ذلك فليكن الطالب على احتياط۔وَلْيَسْتَبِقُ ، وَلا يَسْتَبقِ۔وعلى الله قصد السبيل۔والله هو ولى الهداية والتسهيل۔عنه لك تعديك ربُّكَ لأقرت من هذا رَ شداً۔ترجمہ: نحوی لحاظ سے اس آیت کریمہ میں دو الگ عامل حرف جار ” فی“ ) ایک عطف (واؤ) کے ساتھ دو معمول لانے کے قاعدہ کے مطابق (امین اور آخرین ) آئے ہیں اور مجرور (آخرین ) مقدم ہے۔آیت کا یہ مطلب ہے کہ وہ خدا ہی ہے جس نے امیین میں ایک رسول امیوں میں سے بھیجا اور وہ آخرین میں سے رسول آخرین میں سے بھیجے گا۔اس طرح ہر قوم کا رسول اس میں سے ہوگا اور یہ سب رسول دیگر امتوں میں اسلام کے رسول ہونگے۔بنی اسرائیل کے ان نبیوں کی طرح جو بنی اسرائیل میں تو رات کے رسول تھے۔