چودھویں اور پندرھویں صدی ہجری کا سنگم — Page 265
265 دعوی مسیح و مهدی ان پیشگوئیوں کے مطابق ضروری تھا کہ بچے مسیح کا انکار کیا جاتا ، سوایسا ہی ظہور میں آیا جو حضرت بانی جماعت احمدیہ کی سچائی کا ثبوت ہے اور منکرینِ مسیح موعود کے لیے لمحہ فکریہ! حضرت بانی جماعت احمدیہ فرماتے ہیں:۔پیشگوئی کے مطابق ضرور تھا کہ انکار بھی کیا جاتا۔اس لیے جن کے دلوں پر پر دے ہیں وہ قبول نہیں کرتے۔میں جانتا ہوں کہ ضرور خدا میری تائید کرے گا جیسا کہ وہ ہمیشہ اپنے رسولوں کی تائید کرتا رہا ہے۔کوئی نہیں کہ میرے مقابل پر ٹھہر سکے۔کیونکہ خدا کی تائیدان کے ساتھ نہیں۔“ ایک غلطی کا ازالہ روحانی خزائن جلد 18 صفحہ 210 ایڈیشن 2008) پھر فرمایا:- ”مبارک وہ جس نے مجھے پہچانا۔میں خدا کی سب راہوں میں سے آخری راہ ہوں اور میں اس کے نوروں میں سے سب سے آخری نور ہوں۔بدقسمت ہے وہ جو مجھے چھوڑتا ہے کیونکہ میرے بغیر سب تاریکی ہے۔“ کشتی نوح روحانی خزائن جلد 19 صفحہ 61 ایڈیشن 2008) اپنی جماعت کی ترقی کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا:۔”اے تمام لوگوسُن رکھو کہ یہ اُس کی پیشگوئی ہے جس نے زمین و آسمان بنایا وہ اپنی اس جماعت کو تمام ملکوں میں پھیلا وے گا اور حجت اور برہان کے رو سے سب پر ان کو غلبہ بخشے گا۔وہ دن آتے ہیں بلکہ قریب ہیں کہ دنیا میں صرف یہی ایک مذہب ہوگا جو عزت کے ساتھ یاد کیا جائے گا۔خدا اس مذہب اور اس سلسلہ میں نہایت درجہ اور فوق العادت برکت ڈالے گا اور ہر ایک کو جو اس کے معدوم کرنے کا فکر رکھتا ہے نامراد ر کھے گا۔اور یہ غلبہ ہمیشہ رہے گا یہاں تک کہ قیامت آجائے گی۔اگر اب مجھ سے ٹھٹھا کرتے ہیں تو اس ٹھٹھے سے کیا نقصان کیونکہ کوئی نبی نہیں