چودھویں اور پندرھویں صدی ہجری کا سنگم — Page 257
جائے گی؟ 257 سے گواہی دی تھی کہ چودھویں صدی کا مجد دسیح موعود ہوگا اور احادیث صحیحہ نبویہ پکار پکار کر کہتی ہیں کہ تیرھویں صدی کے بعد ظہور مسیح ہے۔پس کیا اس عاجز کا یہ دعویٰ اس وقت عین اپنے محل اور اپنے وقت پر نہیں ہے؟ کیا یہ مکن ہے کہ فرمودۂ رسول خطا جاوے؟ میں نے اس بات کو ثابت کر دیا ہے کہ اگر فرض کیا جائے کہ چودھویں صدی کے سر پر مسیح موعود پیدا نہیں ہوا تو آنحضرت ﷺ کی کئی پیشگوئیاں خطا جاتی ہیں اور صد ہا بزرگوار صاحب الہام جھوٹے ٹھہرتے ہیں۔“ دعوی مسیح و مهدی ( آئینہ کمالات اسلام روحانی خزائن جلد 5 صفحہ 340 ایڈیشن 2008) وائے افسوس !! کیا ہزاروں اولیائے کرام اور بزرگانِ سلف کی گواہی بلا وجہ جھوٹ قرار دے دی آه صد آه !! ہزاروں صاحب کشف والہام صوفیائے عظام کے کشوف والہامات کو کیا کرو گے؟ کیا رسول اللہ کی پیشگوئیوں کو چھوڑ دو گے؟ حق یہ ہے کہ جب آنے والا آ گیا جس کا صدیوں سے انتظار تھا تو اسے قبول کرنا ہی عین سعادت ہے۔اے کاش !! دنیا اب بھی اس عین وقت پر آنے والے امام منتظر کی آواز پر کان دھرے۔اُس نے کیا خوب کہا: وہ آیا منتظر تھے جس کے دن رات كهل گیا روشن ہوئی بات دکھائیں آسماں نے ساری آیات زمیں نے وقت کی دے دیں شہادات پھر اس کے بعد کون آئے گا ہیہات خدا کچھ ڈرو چھوڑو معادات خدا نے جہاں کو ـان الّذى أخزى الان سنا دی الاعــ ادی