چودھویں اور پندرھویں صدی ہجری کا سنگم — Page 17
17 پیش لفظ پیش لفظ دنیا کے بڑے بڑے تمام مذاہب کی مستند کتابوں میں آخری زمانہ میں ایک موعود مصلح کی خبر بڑی کثرت سے پائی جاتی ہے۔قرآن کریم اور احادیث میں بھی آخری زمانہ میں ایک مہدی اور مثیل مسیح کی پیشگوئی موجود ہے۔نیز علماء امت اور ہزاروں اولیائے کرام اور بزرگان سلف نے رویا و کشوف اور الہامات کے ذریعہ خدا تعالیٰ سے علم پا کر اس مسیح و مہدی کے زمانہ کی تعین بھی فرمائی ہے۔مکاشفات اکابر اولیاء اور صوفیائے عظام بالا تفاق اس بات پر شاہد ہیں کہ مسیح موعود کا ظہور چودھویں صدی کے سر پر ہوگا اور اس سے تجاوز نہیں کرے گا۔اس بارہ میں حوالے بے شمار ہیں تاہم چند اہم مستند حوالے اصل کتابوں کے عکس کے ساتھ اس کتا بچہ میں پیش کیے جا رہے ہیں۔حوالوں کے ساتھ ضروری وضاحت بھی کر دی گئی ہے۔بعض حوالے طویل تحقیق و تلاش کے بعد پاکستان کی بڑی بڑی لائبریریوں سے دستیاب ہوئے ہیں۔پھر بھی بعض کتب نہیں مل سکیں ، اس لیے ان کے صرف حوالے ہی ساتھ شامل کر دیئے گئے ہیں۔ان حوالوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ امت مسلمہ کو ایک مدت سے بڑی شدت سے مہدی ومسیح کا انتظار تھا اور علمائے کرام اور بزرگان و اولیائے امت نے رویا و کشوف کی روشنی میں بیان کیا تھا کہ تیرھویں صدی میں مسیح موعود کا پیدا ہونا ضروری ہے تاکہ چودھویں صدی کے سر پر ظاہر ہو سکے۔گویا مسیح موعود کیلئے تیرھویں وچودھویں صدی دونوں کا پانا ضروری تھا۔اب جبکہ چودھویں صدی بھی ختم ہو گئی اور پندرھویں صدی کا آغاز ہے ان دونوں صدیوں کا سنگم اپنے پس منظر کے اعتبار سے تاریخ انسانی کا اہم ترین موڑ ہے جو عالم انسانیت کیلئے عموماً اور امت مسلمہ کیلئے خصوصاً فکر انگیز تاریخی لمحات ہیں کہ وہ موعود اقوام عالم وہ مسیح و مہدی جس کا مدتوں سے انتظار تھا کہاں ہے؟ قرآن و حدیث ، بائبل اور ہزاروں اولیاء اللہ اور بزرگوں کے کشف والہام جھوٹے نہیں ہو سکتے۔اس لحاظ سے 8 نومبر 1980ء کو چودھویں صدی کا وداع اور پندرھویں صدی کا استقبال دنیا