چودھویں اور پندرھویں صدی ہجری کا سنگم

by Other Authors

Page 157 of 296

چودھویں اور پندرھویں صدی ہجری کا سنگم — Page 157

157 زمانہ مہدی کی الہامی شہادات پھر نواب صدیق حسن خان صاحب صفحہ 394 پر فرماتے ہیں:۔(i) اہلِ سنت کا یہی مذہب ہے کہ الآیات بعد الماشین یعنی بارہ سو سال گذرنے کے بعد یہ علامات شروع ہو جائیں گی اور مہدی مسیح اور دجال کے نکلنے کا وقت آجائے گا۔ابوقبیل کا قول ہے کہ سن 1204 میں مہدی کا ظہور ہوگا۔لیکن یہ قول بھی صحیح نہ نکلا۔شاہ ولی اللہ محدث دہلوی کا کشف ہے کہ ان کو تاریخ ظہور مہدی لفظ چراغ دین میں بتائی گئی ہے جس کے اعداد 1268 بنتے ہیں۔(ii) قاضی ثناء اللہ پانی پتی (متوفی : 1225ھ ) نے رسالہ سیف مسلول میں لکھا کہ علمائے ظاہری و باطنی کا اس بات پر اتفاق ہے کہ تیرھویں صدی کے اوائل میں ظہور مہدی ہوگا۔۔۔بعض مشائخ اپنے کشف میں یہ بھی کہہ گئے ہیں کہ مہدی کا ظہور بارہ سو برس سے پیچھے ہوگا اور تیرھویں صدی سے تجاوز نہیں کرے گا۔ملاحظہ ہو کس حوالہ نمبر 50 : حج الکرامہ صفحہ 394 - مطبع شاہجہانی بھوپال اسی کتاب کے صفحہ 395 پر موصوف لکھتے ہیں کہ :۔(الف) یہ سال تو گذر گئے اور تیرھویں صدی سے صرف دس برس رہ گئے اب تک نہ مہدی نہ عیسی دنیا میں آئے۔میں بلحاظ قرائن قویہ گمان کرتا ہوں کہ چودھویں صدی کے سر پر ان کا ظہور ہوگا۔(ب) وہ قرائن یہ ہیں کہ تیرھویں صدی میں دجالی فتنے بہت ظہور میں آگئے ہیں اور اندھیری رات کے ٹکڑوں کی طرح نمودار ہورہے ہیں اور اس تیرھویں صدی کا فتن و آفات کا مجموعہ ہونا ایک ایسا امر ہے کہ چھوٹے بڑے کی زبان پر جاری ہے۔یہاں تک کہ جب ہم بچے تھے تو بڑھی عورتوں سے سنتے تھے کہ حیوانات نے بھی اس تیرھویں صدی سے پناہ چاہی ہے۔(ج) اب وہ وقت قریب ہے کہ جو مہدی اور عیسی کا ظہور ہو کیونکہ علامات صغریٰ سب وقوع میں آگئی ہیں۔اور ان نشانیوں کا ذکر کر کے لکھتے ہیں کہ یہ سب واضح علامات اور روشن نشانات اس بات پر گواہ ہیں کہ اب وہ وقت ظہور مسیح و مہدی بہت نزدیک ہے۔ملاحظہ ہو کس حوالہ نمبر 51: حج الکرامہ صفحہ 395 - مطبع شاہجہانی بھوپال