چودھویں اور پندرھویں صدی ہجری کا سنگم

by Other Authors

Page 136 of 296

چودھویں اور پندرھویں صدی ہجری کا سنگم — Page 136

136 چاند وسورج گرہن 4۔حضرت میاں عبداللہ صاحب احمدی جنڈ و سا ہی سیالکوٹ (بیعت : 1901) فرماتے ہیں:۔میں حافظ محمد صاحب لکھوکے کی تصنیف احوال الاخرت میں علامات مہدی پڑھ رہا تھا۔جب میں نے یہ شعر پڑھا کہ :۔تیر ہوئیں چن ستویں سورج گرہن ہو سی اوس سالے تو مجھے اللہ تعالیٰ نے اس طرح بتایا جس طرح کوئی استاد شاگر د کو بتاتا ہے۔فرمایا مرزا غلام ہی مہدی ہے۔اور مجھے حضرت مرزا غلام احمد کا نام کہ یہی سچا مہدی اس وقت ہے۔مفصل طور پر بتایا گیا کہ کوئی شک شبہ نہ رہا۔“ رجسٹر روایات غیر مطبوعہ رجسٹر نمبر 2 صفحہ 139 ) 5- حضرت مولوی غلام رسول صاحب ساکن مجوکہ ضلع خوشاب ( تحریری بیعت: 1901) چاند گرہن لگنے سے پہلے جنتری سال 1894ء شائع ہونے پر یہ بات عوام میں مشہور ہوئی کہ اس سال رمضان میں چاند گرہن ہو گا۔اس وقت حضرت مرزا صاحب مسیح و مہدی کا دعوی فرما ر ہے تھے۔مؤلف کتاب ہذا کے دادا حضرت مولوی غلام رسول صاحب آف مجوکہ نیلا گنبد لاہور کے مدرسہ میں حدیث پڑھتے تھے۔اس نشان کے بعد انہیں قبول احمدیت کی توفیق ملی۔حضرت خلیفتہ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے ان کی شہادت کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا:۔1894ء میں جب سورج گرہن اور چاند گرہن ہوا۔اس وقت میں لاہور میں مولوی حافظ عبد المنان صاحب سے ترمذی شریف پڑھتا تھا۔۔۔ان دنوں حافظ محمد لکھو کے والے پتھری کا آپریشن کروانے کے لئے لاہور آئے ہوئے تھے۔میں بھی ان کی خدمت میں حاضر ہوا۔ان سے جب عوام نے دریافت کیا کہ سی نشان آپ نے اپنی کتاب احوال الآخرۃ میں واضح طور پر لکھا ہے۔۔۔انہوں نے کہا کہ میں بیمار ہوں صحت کی درستی کے بعد کچھ کہ سکوں گا البتہ اپنے لڑ کے عبد الرحمان محی الدین کو حضرت مرزا صاحب کی مخالفت سے روکتا ہوں کہ اللہ تعالی کے