چودھویں اور پندرھویں صدی ہجری کا سنگم — Page 137
137 چاند وسورج گرہن راز عجیب ہوتے ہیں لیکن وہ زندہ نہ رہ سکے اور جلد ہی راہی ملک عدم ہو گئے۔ان ہاتوں سے گو میرا دل حضرت اقدس کی سچائی کے بارہ میں مطمئن ہو چکا تھا۔" خطبہ جمعہ حضرت خلیفہ اسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ 20 مارچ 2015۔اصحاب احمد جلد دہم حصہ اول و دوم صفحہ 178 ) حافظ محمد صاحب آف لکھو کے، واقع گرہن سے قبل بیمار ہو کر لاہور بغرض علاج لا ہور آئے اور صفر 1311 ھ /1893 ء میں ہی حافظ صاحب وفات پا گئے۔(اردو دائرہ معارف اسلامیہ جلد 19 صفحہ 519) اور اپنی کتاب احوال الآخرۃ سے کئی اہلحدیث کی ہدایت کا موجب ہوئے۔-6 حضرت شیخ نصیر الدین صاحب آف مکند پور ضلع جالندھر: علماء سے احوال الآخرة “ پیشگوئیوں کی مشہور کتاب سنتے تو دل گواہی دیتا کہ آنے والے کا وقت تو یہی معلوم ہوتا ہے لیکن امام مہدی کا ظہور کیوں نہیں ہو رہا۔۔۔ایک دن ایک مسجد میں نماز پڑھ رہے تھے۔ایک مولوی صاحب بڑی پریشانی کے عالم میں اپنی رانوں پر ہاتھ مار مار کر سورج اور چاند گرہن کا ذکر کر کر کے کہہ رہے تھے کہ اب تو لوگوں نے مرزا صاحب کو مان لینا ہے کیونکہ پیشگوئی کے مطابق گرہن تو لگ چکا ہے۔آپ کے کان میں یہ آواز پڑی تو پریشانی اور بڑھی کہ مولوی صاحب کیا کہہ رہے ہیں؟ اگر پیشگوئی پوری ہو گئی ہے تو بڑی خوشی کی بات ہے۔چنانچہ آپ نے بڑی آہ وزاری سے دعائیں شروع کر دیں کہ مولیٰ کریم تو ہی میری رہنمائی فرما۔۔۔اسی دوران آپ نے حضرت مسیح موعود کے دعوی کے بارے میں سنا اور قادیان پہنچ کر بلا چون و چرا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے دست مبارک پر بیعت کر لی خطبہ جمعہ حضرت خلیفہ امسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ 20 مارچ 2015۔تاریخ احمدیت ضلع راولپنڈی صفحہ 163 164 )