چودھویں اور پندرھویں صدی ہجری کا سنگم — Page 74
74 نزول مسیح اور ارشادات نبویہ عار شہادت حضرت خواجہ غلام فرید صاحب کہ عیسی اور مہدی ایک ہی شخص ہے: سرائیکی علاقہ کے ایک نڈر، حق گو مرد با صفا و ولی اللہ حضرت خواجہ غلام فرید صاحب آف چاچڑاں شریف ضلع بہاولپور (متوفی: 1901ء ) حضرت بانی جماعت احمدیہ کے مصدق تھے۔ان کے مرید پنجاب اور سندھ میں لاکھوں کی تعداد میں موجود ہیں۔انہوں نے حضرت بانی جماعت احمدیہ کی پاکیزہ سیرت وکردار اور دینی کارناموں کی تائیدی شہادات کے ساتھ آپ کی تصدیق فرمائی۔( انجام آتھم روحانی خزائن جلد 11 صفحہ 344 ایڈیشن 2008) 1891ء میں جب مولوی محمد حسین بٹالوی اور دیگر علمائے ہند حضرت بانی جماعت احمدیہ کے خلاف فتویٰ کفر پر حضرت خواجہ صاحب سے دستخط کروانے گئے تو آپ نے فتوی تکفیر پر اتفاق نہیں فرمایا۔پھر حضرت بانی جماعت احمدیہ کی شرطی پیشگوئی کے مطابق جب 27 جولائی 1896ء کو پادری عبد اللہ آتھم کی وفات ہوئی اور آپ نے 58 مولوی صاحبان اور 46 سجادہ نشینوں کو بذریعہ رجسٹری دعوت مباہلہ دیتے ہوئے انہیں اپنا ایک عربی رسالہ بھجوایا۔حضرت خواجہ غلام فرید صاحب کا نام سجادہ نشینوں میں چوتھے نمبر پر درج تھا۔اس کے جواب میں حضرت خواجہ صاحب نے حضرت بانی جماعت احمدیہ کی صالحیت کی گواہی دی اور آپ سے خط و کتابت میں محبت واحترام کا رشتہ قائم رکھا۔( انجام آتھم روحانی خزائن جلد 11 صفحہ 322 تا324 ایڈیشن 2008) مزید برآں حضرت بانی جماعت احمدیہ کے دعوی مثیل عیسی اور امام مہدی کی تصدیق کرتے ہوئے حضرت خواجہ صاحب نے فرمایا: "اگر انہوں نے مہدی اور عیسی ہونے کا دعویٰ کیا ہے تو یہ بھی جائز بات ہے۔“ ( اشارات فریدی مقبوس نمبر 83 صفحہ 179) اشارات فریدی کی فارسی عبارت کا ترجمہ پیش خدمت ہے:۔اسی اثناء میں حافظ مگوں سکنہ حدود گڑھی بختیار خان نے حضرت مرزا غلام احمد صاحب قادیانی کے متعلق نا مناسب اور ناروا باتیں کہنی شروع کیں اس وقت حضرت خواجہ صاحب ابقاء اللہ تعالیٰ ببقائہ کا چہرہ مبارک متغیر ہو گیا اور آپ نے