چودھویں اور پندرھویں صدی ہجری کا سنگم

by Other Authors

Page 69 of 296

چودھویں اور پندرھویں صدی ہجری کا سنگم — Page 69

سفن این ماجه استطعمم 69 عکس حوالہ نمبر: 16 ۲۵۸ مر جاؤ دیکھے صل الله نزول مسیح اور ارشادات نبویہ علی كتاب الفتن انس بن مالک سے روایت ہے آنحضرت صلی اللہ محمد بن ادريس الشافعي ، حدثني محمد علیہ وسلم نے فرمایا روز بروز سختی زیادہ ہوتی بھا ریگی ان خالد العبدِي مَنْ آبانِ بنِ صَالِحٍ ، مَن اور روٹی کمانا لوگوں پر دشوار ہوگا یہ قیامت کے احسن ان انس بن مالك أَن رَسُول قرب کا حال ہے) اور دنیا میں ادبار پڑھتا جا وینگا الله صلى الله عليه وسلم قال لا يزداد الأمور یعنی مصیبت اور منلی اور محتاجی نکبت اور خواری ) اور الاسدة - وَلَا الدُّنْيَا إِلَّا ادْبَارًا وَلَا النَّاسُ لوگوں میں خیلی زیادہ ہوتی جہادیگی در سید رکھ کر اپنے بھائی الأشعا، ولا تقوم الساعة إلا على شمارِ النَّاسِ مسلمان کو تجارت کیلئے نہ دیں تھے ، اور قیامت نہیں قائم ہوگی۔مگر بد ترین لوگوں پر اور مہدی کوئی نہیں ہے وَرَ الْمَهْدِى الأعيسى بن مريم - سوا حضرت کیلئے بن مریم علیہ السلام کے لیے لے اس حدیث کو حاکم نے بھی مستدرک میں روایت کیا لیکن اس میں بجائے انتقال کے مثالہ ہے اور مثالہ کہتے ہیں خراب اربری کھجور کو اور اعتقال منبع بہت عقل کی مقفل دو شخص میں کی نہ برائی سے ڈر ہو نہ اس سے نفع کی امید ہو یعنی بے کار غافل شخص۔نے اس حدیث کو حاکم نے بھی مستدرک میں نکالا اور کہاکہ یہ امام شافعی کے افراد میں سے ہے اور ذہبی نے میزان میں کہا یہ حدیث نکر ہے تفرد ہوا اس کے ساتھ یونس بن عبد الا علی شافی سے اور ایک روایت میں یونس سے یوں ہے کہ مجھ سے حدیث بیان کی گئی شافعی سے اس صورت میں یہ حدیث منقطع ہے اور ایک جماعت نے اس کو یونس سے یوں روایت کیا کہ مجھ سے حدیث بیان کی شافعی نے ابن اثیر کی روایت میں بھی اس طرح ہے اس صورت میں یہ حدیث متصل ہوگی مگر مسیح یہ ہے کہ یونس نے اس کو شافعی سے نہیں سنا اور اس کی استاد میں محمد بن خالد بندی ہے اندوی نے کہا وہ منکر الحدیث ہے اور حاکم اور ابن الصلاح نے امالے میں کہا وہ مجہول ہے لیکن تختہ کیا اسکو بیچنے بین معین نے اور ابان بن صالح سچا ہے لیکن اس نے حسن سے نہیں سنا اور ابن الصلاح نے اس حدیث میں ایک اور علت نکالی کہ بیہقی نے اس کو مرسل روایت کیا حسن سے ابان بن ابی عیاشی کے طریق سے اور امام مہدی کے ثبوت میں متواتر حدیثیں وارد ہیں کہ وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی آل کام میں سے ہوں گے اور سات سال تک حکومت کریں گے اور حضرت علی علیہ السلام انھی کے زمانہ میں اتریں گے اور صرف سی روایت اس قدر مستند در روایتوں کا مقابلہ نہیں کر سکتی اور محمد بن خالد کو گو ابن معین نے نعتہ کی مگر وہ معروف نہیں ہے اہل حدیث کے نزدیک اور ابو عبد اللہ حافظ نے کہا وہ ایک مجمول شخص ہے اور اختلاف ہے اس کے اسناد میں بعضوں نے اس کو روایت کیا جندی سے اس نے ابان بن ابی عیاش سے اس نے محسن سے مرسلا تو جدی مجہول ہے اور ا ان بن ابی عیاش متروک ہے اور حسن کی روایت مرسل ہے اور مہدی کے خروج میں بہت احادیث وارد ہیں ان کا استاد اس روایت سے زیادہ بھیجے ہے اور حافظ ابن عساکر نے تاریخ دمشق میں ابوالحسن علی بن محمد سے روایت کیا میں نے امام شافعی کو خواب میں دیکھا وہ کہتے تھے یونس بن عبد الاعلے نے میرے اوپر پھوٹ باند حاجندی کی حدیث میں انہوں نے حسن سے انہوں نے انس سے مہدی کی باب میں شافعی نے کہا جلد سود الله