چودھویں اور پندرھویں صدی ہجری کا سنگم — Page 70
سنن ابن ماجه 70 عکس حوالہ نمبر : 16 ۴۵۹ نزول مسیح اور ارشادات نبویہ علی كتاب الفتن ۲۵- بَابٌ أَشَرَاطِ السَّاعَةِ قیامت کی نشانیوں کا بیان ر کا کام کے دور ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اور الرفاعى، محمد بن يَزِيدَ ، قَالاتنا الويكون روایت ہے۔کہ آنحضرت صلے اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا۔میں ياش تا ابو حَصِينَ عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، ي هُرَيرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ الله صلى الله قیامت اس طرح بھیجے گئے يه وسلم بِعِثْتُ آنَا وَ السَّاعَةُ ، لَهَاتَيْنِ ہیں۔اور آپ نے اپنی دو انگلیوں عليه یہ میری حدیث نہیں ہے اور نہ میں نے اس کو بیان کیا اور یونس نے میرے اوپر جھوٹ باندھا اور میقی نے خطا من خطا علیٰ الشافعی میں کیا کہ یہ حدیث منکر ہے امام شافعی کی پھر احمد بن سنان سے نکالا انہوں نے کہا میں بیٹے بن معین کے پاس بیٹھا تھا اتنے میں صالح ان کے پاس آیا اور کہنے لگا مجھ کو شافعی سے پہنچا کہ یہ ایک حدیث راہی ہے اور شافعی تو ہمارے نزدیک ثقہ ہیں اور اگر یہ حدیث منکر ہو تو اس کے منکر ہونے کی وجہ یہ ہوگی کہ محمد بن خالد جندی نے اس کو روایت وہ ایک شیخ مجمول ہے اور اس کی عدالت ثابت نہیں ہوئی جس سے اس کی روایت مقبول ہو اور شافی کے سوا کیسے بن السکن نے بھی اس حدیث کو روایت کیا جندی سے اسی طرح تو معلوم ہوا کہ غلطی اس میں جندی کی ہے اور یہ حدیث مشہور ہے کئی طریقوں سے مگر ان میں یہ فقرہ نہیں ہے کہ بلا ہد می الا مینے بن مریم اور حافظ ابن کثیر نے بدایہ والنہایہ میں کا کہ یہ حدیث مشہور ہے جندی کی روایت سے جو موذن تھا اور شیخ تھا شافعی کا اور اس سے کئی لوگوں نے روایت کی اور وہ مجبول نہیں ہے جیسے حاکم نے گمان کیا بلکہ ابن معین سے منقول ہے کہ وہ تفہ ہے لیکن بعضوں نے اس کو جبندی سے اس نے ابان بن عیاش سے اس نے حسن سے مرسلا نکالا اور حافظ مرمی نے نقل کیا کہ کسی نے شافعی کو خواب میں دیکھا انہوں نے اس حدیث کا انکار کیا اور کہا کہ یونس نے مجھ پر جھوٹ باندھا یہ میری حدیث نہیں ہے اور ا بن کیپر نے کہا کہ یونس نقات میں سے ہے اور صرف خواب کی وجہ سے اس پر طعن نہیں ہو سکتا اور یہ حدیث بہ ظاہر مخالف ہے ان حدیثوں کے جو صدی کے باب میں آئیں ہیں اور اگر غور کرو تو تطبیق ممکن ہے اس طرح سے کہ مہدی سے مراد مہدی کا مل ہو وہ حضرت عیسی علیہ السلام ہی ہوں گے رمصباح الزجاجہ مختصرا ) مترجم کتا ہے اگر یہ حدیث مجھے بھی ہو تو اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ اس زمانے کا ذکر ہے جو مہدی کی وفات کے بعد ہو گا قیامت کے قریب اور حضرت علی علیہ السلام حضرت صدمی علیہ السلام کے بہت دنوں بعد تک زندہ رہیں گے اس وقت کوئی میری نہ ہو گا بجز حضرت عیسی علیہ السلام کے اب اس میں اور صدی کے اثبات کی حدیثوں میں کوئی تخالف نہ ہا اور کیونکر ممکن ہے کہ ایک ضعیف منکر روایت سے بندی کی متعدد حدیثوں کو رد کریں اور مہدی کا ہماری امت میں کسی نے انکار نہیں کیا بجز این خلدون مورخ کے اور اس کا قول اجتماع کے خلاف اعتبار کے لائق نہیں ہے اور ابن خلدون محدث نہیں ہے صرف مورخ ہے۔جلد سوئم