چودھویں اور پندرھویں صدی ہجری کا سنگم — Page 278
278 مسیح موعود پر ایمان لانے کی ضرورت؟ کیا مذہب کے نام پر کلمہ گو احمدیوں کے علاوہ کسی سے بائیکاٹ، یا مار پیٹ، یا گھر بار سے نکالنے، مالوں سے محروم کرنے ، قید یا قتل کرنے کا سلوک جاری ہے جن کو صحابہ کرام کی طرح عیسائی عادل حکومتوں میں پناہ لینے کی نوبت در پیش ہو ؟ نہیں ہرگز نہیں تو پھر نا جی کون ہے؟ آج کون ظالم ہیں جو مظلوم احمدیوں کے مُردوں تک کی بے حرمتی کر کے انہیں دفن ہونے سے روکتے اور ان کی قبروں کے کتبے اکھیڑنے سے بھی باز نہیں آتے؟ کیا کلمہ، اذان اور قرآن و نماز سے روکنے والے، مساجد و مینار گرانے والے اور قبروں کی بے حرمتی کرنیوالے مسلمان رسول اللہ اور صحابہ کے نمونہ پر ہیں؟ جنہوں نے تمام مذاہب کی عبادت گاہوں کا احترام سکھایا؟ (الحج: 41) آج کون کلمہ کی عبارتیں توڑ پھوڑ اور قبروں کے کتبے اکھیڑ کر ان کی تو ہین کا مرتکب ہو رہا ہے؟ حسب توفیق سب مسلمان فرقے یا احمدی فرقہ ناجیہ؟ اگر مذکورہ بالا صفات کا حامل کوئی اور فرقہ چراغ لے کر ڈھونڈنے سے بھی نہ ملے تو پھر اس میدان میں تنہا موجود جماعت احمدیہ ہی وہ فرقہ ناجیہ ہے جس کی عملی گواہی خدا کے رسول ﷺ اور صحابہ کے کردار نے دی اور آپ کے بچے غلام چودہ سو سال سے دیتے چلے آئے۔ان میں سے ایک نمایاں بزرگ اہلِ سنت کے امام حضرت علامہ ملاعلی قاریؒ (متوفی: 1014ھ بمطابق 1606ء) تھے ، جنہوں نے اللہ سے علم پا کرنا جی فرقہ کا نام ہی فرقہ احمد یہ بیان فرمایا تھا۔ملاحظہ ہو عکس حوالہ نمبر 77 : مرقاۃ المفاتیح شرح مشکوۃ المصابیح الجزء الاول صفحہ 381 دارالکتب العلمیة بیروت لبنان حضرت مجددالف ثانی ( متوفی : 1034ھ) نے اللہ تعالیٰ سے الہام پا کر یہ بات بیان فرمائی کہ رسول اللہ ﷺ کی وفات کے ہزار سال بعد ایک ایسا زمانہ آنیوالا ہے جس میں حقیقت محمدی کا نام حقیقت احمدی ہو جائے گا۔ملاحظہ ہو عکس حوالہ نمبر 79: مبدا و معاد مترجم از حضرت مولانا سید زوار حسین شاہ صاحب صفحه 205 مطبوعہ احمد برادرز پرنٹرز ناظم آباد کراچی