چودھویں اور پندرھویں صدی ہجری کا سنگم — Page 206
206 علامات مسیح و مہدی اور چودھویں صدی د۔پہاڑوں کے چلائے جانے کا چوتھا مطلب اس سے اگلی آیت وَإِذَا الْعِشَارُ عُطِّلَت (جس میں اونٹنی کی سواری بے کار ہونے کا ذکر ہے ) کے لحاظ سے ہے جو عملاً پورا بھی ہو چکا ہے اور وہ پہاڑ جیسی عظیم نئی سواریوں کی پیشگوئی ہے کہ پہاڑوں کی طرح بڑے بڑے سمندری جہاز اور فضائی جہاز سفر اور بار برداری کے لیے استعمال ہوں گے۔ایسی سواریوں کی ایجاد کی مناسبت سے اگلی آیت میں پیشگوئی ہے کہ اس وقت عرب کے صحرا کا جہاز اونٹ بھی بے کار ہوجائے گا اور تیز سفر کے لیے موٹر، ریل، جہاز وغیرہ زیادہ استعمال ہوں گے۔چوتھی علامت اونٹوں کا متروک ہونا اور نئی سواریوں کی ایجاد: فرمایا: وَإِذَا الْعِشَارُ عُطِّلَتُ (التصوير :5) یعنی جب دس ماہ کی حاملہ اونٹنیاں چھوڑ دی جائیں گی۔عشائر“ کے معنے گا بھن اونٹنی کے ہیں جس کی عربوں میں بڑی قیمت تھی اور اس میں پیشگوئی تھی کہ وہ بھی بے کار اور بے قیمت ہو جائیں گی۔عشار پر ”المعرفہ کے لئے ہے جس کا مطلب ہے کہ خاص قسم کے اونٹ کی سواری متروک ہو جائے گی۔رسول اللہ ہو نے مسیح کے ظہور کے وقت اس کے مقصد اور کام کے ساتھ ایک یہ نشانی بھی بیان فرمائی:۔وَلَيُتْرَكُنَّ الْقِلاصُ فَلا يُسْعَى عَلَيْهَا “ مسلم کتاب الایمان باب نزول عیسی بن مریم حا کما بشریعت نبینا محمد) کہ مسیح کے زمانہ میں اونٹنیوں سے تیز رفتاری کے لئے کام نہیں لیا جائے گا۔اس میں پیشگوئی تھی کہ ایسی تیز سواریاں موٹر، ریل، جہاز ایجاد ہو جائیں گی کہ ان کے مقابل پر اونٹنیوں کا استعمال متروک ہو جائے گا، چنانچہ چودہ سو سال قبل رسول اللہ ہے جب مکہ میں یہ پیشگوئی فرمارہے تھے تو ہر طرف سے اونٹوں کے قافلوں کا سلسلہ قطار اندر قطارحج کے لیے آتا تھا۔آج اس کی جگہ موٹر، ریل، جہاز لے چکے صلى الله ہیں اور کیسی شان سے یہ پیشگوئی پوری ہو کر رسول اللہ علیہ اور قر آن کی صداقت عیاں کر رہی ہے۔علامہ خواجہ حسن نظامی نے مسیح و مہدی کے جائے ظہور ہندوستان میں اس علامت کے پورا ہونے کے بارہ میں یہ اعتراف کیا کہ:۔