چودھویں اور پندرھویں صدی ہجری کا سنگم — Page 207
207 علامات مسیح و مہدی اور چودھویں صدی ”موٹروں اور ریل گاڑی کی ایجاد سے اونٹوں کی سواری بیکار ہوگئی اور یہ تمام 66 علامات زمانہ مہدی چودہویں صدی تک پورے ہو گئے۔“ ( کتاب الا مر صفحہ 6۔مطبوعہ 1913ء۔درویش پریس دہلی) آسٹریلیا میں اونٹوں کے بے کار ہونے کے غیر معمولی نشان کا ظہور جس شان کے ساتھ براعظم آسٹریلیا میں ” وَإِذَا الْعِشَارُ عُطِّلَت“ کی پیشگوئی کا حیرت ناک نشان ظاہر ہوا وہ اپنی مثال آپ ہے۔آسٹریلیا ( جس کا بڑا حصہ ویران بنجر صحرا پر مشتمل ہے) کی تعمیر و ترقی کے لیے 1859ء میں اونٹ برٹش انڈیا سے درآمد کرنے کا سلسلہ تیرہویں صدی ہجری میں شروع ہوا جب چودہ اونٹوں اور تین شتر بانوں کا پہلا قافلہ وہاں پہنچا۔پیشگوئی کے مطابق بیسویں صدی ( یعنی ظہور مسیح کی چودہویں صدی میں موٹر اور ریل وغیرہ کی ایجاد کے بعد 1908ء میں اونٹ متروک ہونا شروع ہوئے۔پہلا ٹرک جنوبی آسٹریلیا کے شہر ایڈلڈ سے کئی ہزار میل کا سفر کر کے شمالی آسٹریلیا کے شہر ڈارون پہنچا یہ ٹرک آج بھی وہاں میوزیم میں محفوظ ہے ) پھر ان کو جنگل میں بغیر چرواہے کے بے کار چھوڑ دیا گیا۔بیسویں صدی کے آخر میں ان جنگلی وحشی اونٹوں کی آبادی تیزی سے بڑھ کر ہزاروں تک پہنچ گئی۔اکیسویں صدی کے آغاز میں تو ایسے آوارہ جنگلی اونٹوں کی تعداد کا اندازہ ایک ملین ہو گیا جو ہر آٹھ سے دس سال میں دو گنا ہو کر مقامی باشندوں Aborignies کے لیے کئی مسائل پیدا کرنے لگے خصوصاً قحط سالی میں مقامی لوگوں کے محفوظ پانی اور غسل خانوں وغیرہ کو اونٹ نقصان پہنچانے لگے۔اس پر حکومت آسٹریلیا کو با قاعدہ وحشی اونٹوں کو سنبھالنے کے لیے National Federal Action Plan وضع کر کے ہزاروں اونٹوں کو بندوق سے شوٹ (shoot) کرنا پڑا۔اکیسویں صدی کی پہلی دہائی کی خوفناک قحط سالی میں ہزاروں اونٹ صحرا میں پانی میسر نہ ہونے کی وجہ سے ازخود ہلاک ہو گئے۔ان مسائل سے نبٹنے کے لیے گورنمنٹ نے 2009ء کے پانچ سالہ منصوبہ میں انیس ملین آسٹریلوی ڈالر کا بجٹ رکھا جس کے تحت کئی ہزار اونٹوں کو شوٹ کر کے بے کار اونٹوں کی تعداد کم کی گئی۔اس غرض کے لیے مسلسل بارہ دن 289 گھنٹے ہیلی کاپٹرز کی مدد سے 45000 مربع میل کے علاقہ