چودھویں اور پندرھویں صدی ہجری کا سنگم — Page 204
204 علامات مسیح و مہدی اور چودھویں صدی ستاروں کے ٹوٹنے کے اس عظیم الشان نشان کا ذکر کرتے ہوئے آپ نے فرمایا کہ:۔اس رات کو جو 28 نومبر 1885ء کے دن سے پہلے آئی ہے اس قدرت شہب کا تماشا آسمان پر تھا جومیں نے اپنی تمام عمر میں اس کی نظیر کبھی نہیں دیکھی اور آسمان کی فضا میں اس قدر ہزار ہا شعلے ہر طرف چل رہے تھے جو اس رنگ کا دنیا میں کوئی بھی نمونہ نہیں تا میں اس کو بیان کر سکوں مجھ کو یاد ہے کہ اُس وقت یہ الہام بکثرت ہوا تھا کہ مَا رَمَيْتَ إِذْ رَمَيْتَ وَلكِنَّ اللَّه رَمی سو اُس رمی کور می شهب سے بہت مناسبت تھی یہ شہب ثاقبہ کا تماشہ جو 28 نومبر 1885ء کی رات کو ایسا وسیع طور پر ہوا جو یورپ اور امریکہ اور ایشیا کے عام اخباروں میں بڑی حیرت کے ساتھ چھپ گیا لوگ خیال کرتے ہوں گے کہ یہ بے فائدہ تھا۔لیکن خداوند کریم جانتا ہے کہ سب سے زیادہ غور سے اس تماشا کے دیکھنے والا اور پھر اُس سے حظ اور لذت اٹھانے والا میں ہی تھا۔میری آنکھیں بہت دیر تک اس تماشا کے دیکھنے کی طرف لگی رہیں اور وہ سلسلہ رمی شہب کا شام سے ہی شروع ہو گیا تھا۔جس کو میں صرف الہامی بشارتوں کی وجہ سے بڑے سرور کے ساتھ دیکھتا رہا کیونکہ میرے دل میں الہاما ڈالا گیا تھا کہ یہ تیرے لئے نشان ظاہر ہوا ہے۔“ آئینہ کمالات اسلام روحانی خزائن جلد 5 صفحہ 110-111 بقیہ حاشیہ ایڈیشن 2008) تیسری علامت پہاڑوں کا چلنا : سورۃ تکویر میں قرب قیامت کی تیسری نشانی یہ بیان فرمائی: وَإِذَا الْجِبَالُ سُيِّرَتْ (التلوی: 4) اور جب پہاڑ چلائے جائیں گے۔الجبال میں ”المعرفہ کے لئے ہے۔اس میں یہ نشانی مذکور تھی کہ:۔الف۔پہاڑوں کو توڑ کر ان میں سرنگیں اور راستے بنائے جائیں گے اور ان کے پتھر سڑکیں بنانے کیلئے دور دور تک لے جائے جائیں گے۔اس زمانہ میں یہ پیشگوئی بڑی شان سے پوری ہوئی۔