چودھویں اور پندرھویں صدی ہجری کا سنگم

by Other Authors

Page 198 of 296

چودھویں اور پندرھویں صدی ہجری کا سنگم — Page 198

198 علامات مسیح و مہدی اور چودھویں صدی لئے قیامت صغریٰ سے کم نہ تھی۔سورہ قمر کی یہ پیشگوئی صرف 16 سال بعد بڑی شان سے پوری ہوگئی اور ثابت ہو گیا کہ قرب ساعت سے مراد فتح مکہ تھی۔یہی مضمون بیان کرتے ہوئے فرمایا تھا:۔اقْتَرَبَ لِلنَّاسِ حِسَابُهُمْ وَهُمْ فِي غَفْلَةٍ مُعْرِضُونَ (الأنبیاء 2 ) یعنی ان (کافر) لوگوں کے حساب کا وقت قریب آ گیا ہے۔اور وہ غفلت میں اعراض کر رہے ہیں۔مکی دور کی اس آیت میں بھی قیامت کبری کی بجائے فتح مکہ کی پیشگوئی تھی جو بڑی شان سے پوری ہوئی۔پھر مکی دور کے آخری زمانہ میں فرمایا: وَإِنَّ السَّاعَة لَاتِية (الحجر: 86) که ساعت آیا ہی چاہتی ہے۔اس میں ساعت ہجرت کی طرف اشارہ تھا۔پھر سورۃ نحل کے شروع میں فرمایا: أَتى أمرُ اللهِ فَلَا تَسْتَعْجِلُوهُ ( الحل : 2) یعنی اللہ کا حکم ( وہ موعود وقت ) آہی گیا ہے۔پس تم اس کے متعلق جلدی نہ کرو۔یہاں امر اللہ سے مراد قیامت کبری کی بجائے فتح مکہ تھی جو ہجرت کے آٹھ سال کے قلیل عرصہ میں ہی حاصل ہوگئی۔اسی بناء پر رسول کریم ﷺ نے اپنی انگشت شہادت کے ساتھ دوسری انگلی کو ملا کر فرمایا تھا:۔أَنَا وَالسَّاعَةُ كَهَاتَيْنِ“ ( بخاری کتاب الرقاق باب قول النبی الا الله بُعِثْتُ أَنَا وَالسَّاعَةُ كَهَاتَين ) کہ میں اور قیامت ان دو انگلیوں کی طرح ملے ہوئے ہیں۔جس کا ایک مطلب یہ تھا کہ فتح مکہ کی قیامت صغریٰ آنحضرت ﷺ کے زمانہ سے جڑی ہوئی ہے۔اور آپ ﷺ کی زندگی میں ظاہر ہوکر رہے گی۔جیسا کہ ترمذی کی روایت میں وضاحت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:۔میں نفس قیامت میں ہی بھیجا گیا ہوں۔پھر میں اس سے اتنا آگے بڑھ گیا جتنا درمیانی انگلی کی لمبائی اور انگشت شہادت میں فرق ہے۔“ ( ترمذی ابواب الفتن باب مَا جَاءَ فِي قَولِ النَّبِيِّ أَنَا وَالسَّاعَةُ كَهَاتَيْنِ ) یعنی میری بعثت ہی ایک روحانی قیامت تھی۔پھر انگلی کے فرق کے برابر آگے بڑھنے کے بعد ایک اور قیامت برپا ہوئی۔دونوں انگلیوں کا فرق بالعموم ہر انسان کی درمیانی انگلی کا آٹھواں حصہ بنتا