چودھویں اور پندرھویں صدی ہجری کا سنگم — Page 197
197 علامات مسیح و مہدی اور چودھویں صدی علامات مسیح و مہدی اور چودھویں صدی قرآن شریف اور احادیث نبوی سے رسول کریم عمرہ کے کامل فرمانبردار اور خادم اسلام امتی مسیح و مہدی کے زمانہ ظہور اور اس کی علامات و نشانات کا تفصیلی ذکر ملتا ہے جو چودھویں صدی میں اس وقت پوری ہوتی نظر آتی ہیں، جب مسیح و مہدی کا ایک دعویدار حضرت مرزا غلام احمد قادیانی بھی موجود ہیں۔اس لحاظ سے آپ کا دعویٰ مزید غور اور توجہ کے لائق ہو جاتا ہے۔قرآن کریم میں علامات زمانہ مہدی قرآن شریف کا تدبر سے مطالعہ کرنے سے پتہ چلتا ہے کہ کسی مامور من اللہ یا نبی کی آمد پر برپا ہو نیوالے روحانی انقلاب کے لیے قیامت، حشر اور الساعۃ وغیرہ کا محاورہ استعمال ہوا ہے۔جیسا کہ رسول اللہ ﷺ کا کام بھی روحانی مردے زندہ کرنا تھا، اس لئے فرمایا: - يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اسْتَجِيبُوا لِلَّهِ وَلِلرَّسُولِ إِذَا دَعَاكُمْ لِمَا يُحْيِيكُمْ (الانفال: 25 ) کہ اے وہ لو گو جوایمان لائے ہو! اللہ اور رسول کی آواز پر لبیک کہا کرو جب وہ تمہیں بلائے تا کہ وہ تمہیں زندہ کرے۔پھر جب رسول کریم ﷺ کی صداقت کے لیے نبوت کے پانچویں سال میں شق قمر کا نشان ظاہر ہوا تو اللہ تعالیٰ نے اسے قرب ساعت کی علامت قرار دیتے ہوئے فرمایا: اقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ وَانْشَقَّ الْقَمَرُ (القمر (2) کہ قیامت قریب آگئی اور چاند دو ٹکڑے ہو گیا۔اب ظاہر ہے اس سے مراد قرب قیامت کبری نہیں کہ وہ قیامت تو پندرہ سو سال گزر جانے پر بھی نہیں آئی تو پھر قرب ساعت سے کیا مراد تھی ؟ در اصل عربوں میں چاند کو ان کی حکومت کی علامت سمجھا جاتا تھا اور چاند کے دوٹکڑے ہو جانے میں دراصل ان کی حکومت کے خاتمہ کی طرف اشارہ تھا۔چنانچہ صلى الله اس آیت کے نزول کے آٹھ سال بعد سردارانِ مکہ نے رسول اللہ علیہ کو اپنے شہر تک سے نکالا اور پھر صلى الله مزید آٹھ سال بعد رسول اللہ ﷺ اس مکہ میں جب فاتحانہ شان سے داخل ہوئے تو یہ گھڑی اہل مکہ کے