چودھویں اور پندرھویں صدی ہجری کا سنگم — Page 110
110 چاند وسورج گرہن چودھویں صدی میں نشان چاند سورج گرہن کے ظہور پر حضرت خواجہ غلام فرید صاحب کی تائیدی گواہی حدیث نبوی کے مطابق مہدی کے نشان کے طور پر چودھویں صدی کے سر پر 1311ھ بمطابق 1894ء ، 13 رمضان کو چاند گرہن اور 28 تاریخ کو سورج گرہن ظاہر ہوا تو بعض مولوی حضرات نے اس پر یہ اعتراض کیا کہ گرہن 13 اور 28 رمضان کی بجائے خارق عادت طور پر یکم اور پندرہ رمضان کو ہونا چاہیے تھا۔اس پر حضرت خواجہ صاحب ٹیکسوف و خسوف کے بارہ میں دار قطنی کی حضرت امام باقر کی بیان کردہ حدیث کا ذکر کر کے حضرت بانی جماعت احمدیہ کے حق میں 1894 میں اس نشان کے پورا ہونے اور دنیا پر اتمام حجت کو اپنی مجلس میں پیش کرتے ہوئے فرمایا:۔اس زمانہ کے مولویوں نے یہ طفلانہ سوال کیا ہے کہ حدیث شریف سے یہ معنے ظاہر ہوتے ہیں کہ رمضان شریف کی پہلی رات کو چاند گرہن ہوگا اور اسی ماہ رمضان میں سورج کو بھی گرہن ہوگا اور یہ چاند گرہن رمضان کی تیرھویں تاریخ کو واقع ہوا ہے اور سورج گرہن رمضان کی اٹھائیسویں تاریخ کو واقع ہوا ہے اور یہ بات حدیث شریف کے فرمان کے خلاف ہے۔وہ کسوف و خسوف کوئی اور ہو گا جو کہ مهدی برحق کے زمانہ میں واقع ہوگا۔اس کے بعد خواجہ صاحب ابقاء اللہ ببقائه نے فرمایا: سبحان اللہ اسٹیے حضرت مرزا صاحب نے مذکورہ حدیث کے کیا معنی کئے ہیں اور منکر مولویوں کو کیا جواب دیا ہے۔حضرت مرزا صاحب نے فرمایا کہ حدیث شریف کے معنی یہ ہیں کہ ہمارے مہدی کی تائید اور تصدیق کے لئے دو نشان مقرر ہیں۔اس وقت سے کہ جب سے آسمان وزمین پیدا ہوئے یہ دونوں نشان کسی مدعی کے وقت میں ظاہر نہیں ہوئے اور وہ دو نشان یہ ہیں کہ مہدی موعود کے دعوی کے وقت چاند گرہن پہلی رات کو ہوگا اور وہ چاند گرہن کی تین راتوں میں سے پہلی رات یعنی تیرھویں رات ہے۔اور سورج گرہن اس دن ہوگا کہ سورج گرہن کے دنوں