سلمان رشدی بھوتوں کے آسیب میں

by Other Authors

Page 99 of 205

سلمان رشدی بھوتوں کے آسیب میں — Page 99

نا موافق ہونا سمجھ آ گیا۔لیکن اس سے زیادہ مجھ پر ایک مہیب حقیقت عیاں ہوگئی یعنی مقدس یا اچھائی سے مجھے کوئی دلچسپی نہ تھی۔"(صفحہ 308) رشدی پر سیکس کا خبط سوار ہو گیا جب اس نے طوائفوں کے یہاں جانا شروع کیا: "میں نے جنسی گندگی اور شہوت کو معلوم کرنا چاہا۔(میرے پاس پیسے خرچ کرنے کو تھے، میرا باپ نہ صرف در یادل بلکہ پیار کر نیوالا بن گیا تھا "۔(صفحہ 309) لیکن اس ضمن میں سب سے زیادہ چونکا دینے والا بیان وہ مسلمانوں کی مزعومہ منافقت کے خلاف دیتا ہے : " ایسا شہر جو اپنی عورتوں کو مقفل دروازوں کے پیچھے چھپائے رکھتا ہو وہاں طوائفوں کی کمی نہیں ہوتی۔"(صفحہ 309) اس کا اشاروں میں کہنا کہ اسلام میں پردہ سے متعلق سخت قوانین کے باعث وہاں طوائفوں کی مانگ بہت زیادہ ہوتی ہوگی کیونکہ مردوں کی دبی ہوئی خواہشات کو کسی نہ کسی طریق سے پورا کیا جانا مطلوب ہوتا ہے۔شہوت کے پرستار کا یہ بیان کس قدر غیر یقینی اور غیر معتبر ہے۔سلمان رشدی نے اسلامی رسومات اور طریقوں میں کئی اور باتوں کو اچھال کر ان پر استہزاء کے رنگ میں کیچڑ اچھالا ہے۔اسلام میں شہادت کے نظریہ اور جنت میں اس کے عوض ثواب بھی اس کے زہر یلے قلم کی زد سے بچ نہیں سکا۔ایک بار پھر وہ سورۃ الرحمن کا حوالہ دیتا ہے: II شہید، پدما ، ہیروز ، جو خوشبو والی بہشت کیلئے روانہ ہونے والا تھا ، جہاں مردوں کو چار دلگداز حور میں دی جائیں گی ، ان کو جن اور انسان نے چھوا نہ ہوگا ، اور عورتوں کیلئے چار مردانگی طاقت والے مرد۔" پھر تم اپنے رب کی کن کن نعمتوں کا انکار کرو گے "؟ جہاد بھی کیا چیز ہے، جس میں مرد لوگ ایک عظیم قربانی سے اپنے تمام گناہوں کا کفارہ ادا کر سکتے ہیں۔"(صفحہ 329) اس کی تحریر میں چھتے ہوئے طنز اور مسخرانہ پچھیتی کو غور سے نوٹ کریں۔لڑائی میں شہادت کا موضوع اور نیک لوگوں کو جنت میں خوبصورت ساتھیوں کا دیا جانا جن کا وعدہ قرآن پاک میں کیا گیا۔یہ مغربی ناقدین کیلئے ہمیشہ طنز اور مذاق ہی بنا رہا ہے۔رشدی بھی اس سے مستثنیٰ نہیں کہ وہ ان مسخروں کی ٹیم میں شامل ہو جائے۔لیکن رشدی ایک قدم اور آگے بڑھ جاتا ہے جب وہ اپنی طرف سے تخیلاتی کردار شامل کر لیتا ہے۔قرآن پاک کی آیات : فِيْهِنَّ خَيْرَاتٌ حِسَانٌ فَبِأَيِّ الْاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبْنِ حُوْرٌ مَّقْصُورت فِى الْخِيَامِ فَبِأَيِّ الْآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِ بْنِ - لَمْ يَطْمِثْهُنَّ 99