سلمان رشدی بھوتوں کے آسیب میں

by Other Authors

Page 59 of 205

سلمان رشدی بھوتوں کے آسیب میں — Page 59

کی خود کفالت کا خوف ہے جو عیسائیوں کے ذہنوں پر حاوی ہے اور ان کے لئے سخت تکلیف اور دکھ کا باعث بنا ہوا ہے۔ان کے حقیقی خوف کو منٹگمری واٹ نے بھی واضح کیا ہے۔وہ کہتا ہے : " جب بھی کوئی تاریخ عالم کو جو مسلم سکالرز نے قرآن کریم میں بیان کئے ہوئے شعور سے لکھی ہے سامنے رکھ کر دیکھتا ہے تو اس کے لئے اسلام اور عالم اسلام کے ماوراء جو کچھ بھی ہے اس میں مسلمانوں کی دلچسپی کی کمی ہرگز باعث حیرت نہیں ہوگی۔چونکہ محمد خاتم النبین تھے اور اسلام آخری مذہب اس لئے تاریخ ایک تسلسل سے دنیا بھر میں اسلام کی آخری فتح کی طرف حرکت کر رہی ہے۔جس کا مطلب یہ ہے کہ عیسائیت بالآخر شاید مکمل طور پر زیر گوں ہو جائیگی " (Watt, Muslim-Christian Encounters, page 49) شاید یہی خوف اور اصل وجہ تھی جس نے مغربی مستشرقین کو جنم دیا۔جیسا کہ منٹگمری واٹ اسی محولہ بالا کتاب میں برملا اعتراف کرتا ہے : " یورپین کالونیاں بنانے والوں کی کئی ایک تصانیف کا مقصد اسلام کو بہتر طور پر سمجھنا تھا تا وہ اسے بہتر طریق سے کنٹرول کرسکیں۔۔۔کالونیاں بنانے والوں کی طاقت کے زیر سایہ عیسائیوں نے اپنے طور پر کئی گروپ بنالئے یہ ان کی بیوقوفی ہوتی اگر وہ کھلے عام اسلام کو ہدف تنقید بناتے یا اس کا مسخ شدہ تصور قائم کر لیتے جس طرح کہ مغربی یورپ میں قائم ہو چکا تھا" (صفحات 73-72) منتگمری واٹ کے تبصرہ جات کو نوٹ کرنا دلچسپی سے خالی نہیں کیونکہ اس کا شمار مغربی مستشرقین کے دیوتاؤں میں ہوتا ہے اور یہاں وہ صاف صاف بیان کرتا ہے کہ مستشرقین کا مقصد اسلام کو کنٹرول کرنا تھا۔جس کا مطلب یہ ہے کہ اسلام پر قابو پانامشکل ہو رہا تھا اور یہ تمام دنیا میں پھیل رہا تھا۔وہ مزید تسلیم کرتا ہے کہ مغربی ناقدین اسلام نے یورپ میں اس کا مسخ شدہ تصور قائم کر رکھا تھا۔59