سلمان رشدی بھوتوں کے آسیب میں — Page 45
تھے۔امیر علی کے قول کے مطابق قانون کی روح کے معنی یہ ہیں کہ راستبازی سے پیار کیا جائے، اچھے اعمال بجالانے کی کوشش کی جائے ، خدا اور اس کی مخلوق سے محبت کا عملی نمونہ اختیار کیا جائے۔وہ ترمذی کی ایک حدیث کا حوالہ دے کر ثابت کرتا ہے کہ سرور کائنات ﷺ نے اپنے قانون کو غیر مبدل قرار نہیں دیا تھا۔اور اس توقع کا اظہار کیا کہ جونہی روحانیت میں ترقی بڑھتی جائیگی اس کے ساتھ ہی قانون کی پیروی کم سے کم تر ہوتی چلی جائیگی۔امیر علی کے خیال کے مطابق محمد عے کے دئے ہوئے کئی قوانین وقتی حالات کے پیش نظر تھے جو نہی حالات بدل گئے تو قوانین بھی صلى الله کالعدم ہو گئے۔ایسے نام نہاد مسلمانوں کے ذہنوں میں کس قسم کے ناقابل یقین خیالات اور تصورات نے جگہ پائی تھی ؟ آزاد خیالوں کی نئی پود نے اسلامی نظریات کی تشکیل نو کی کوشش کی اور عیسائی مستشرقین کے ہاتھوں میں آلہ کار بن گئے۔انیسویں صدی کے نصف میں یہ اسی قسم کی آزاد خیالی تھی جس نے اسلام کی بنیادوں کو ایسا نا قابل بیان نقصان پہنچایا جس نے اس کو ہلا کر رکھ دیا۔علاوہ ازیں اسلام کے پاک پیغمبر ﷺ پر مغربی مستشرقین نے جو ظالمانہ اور کینہ پرور حملے کئے ان میں کوئی کمی یا تنزل ہوتا نظر نہیں آتا تھا۔انہیں کوئی پوچھنے والا نہیں تھا۔پس یہ کوئی اچنبھے کی بات نہیں کہ ہندوستان میں مسلمانوں کے لئے اپنے مذہب کی پیروی کرنا دو بھر ہو گیا۔اس سے سرکار دو عالم کی ایک پیش گوئی پوری ہوگئی کہ ایک وقت ایسا آئیگا کہ حقیقی اسلام کا کچھ بھی باقی نہ رہ جائیگا سوائے نام کے۔در حقیقت کئی مسلمانوں نے اپنا مذہب تبدیل کر لیا اور عیسائیت، ہندومت یا دہر یہ پن کے پیروکار بن گئے۔آزاد خیالی کا ماحصل یہ ہے کہ برطانویوں کو جان بوجھ کر نہ چھیڑا جائے کیونکہ وہ تو اسلام کو نیست و نابود نہیں کرنا چاہتے بلکہ اس کے خیر خواہ تھے اور مسلمانوں کو کامیابی سے ہمکنار ہوتا دیکھنا چاہتے تھے۔چودہ سوسال قبل نازل ہونے والا خدا کا کلام پھر ایک بار پوری صداقت سے پورا ہوا۔اللہ تعالیٰ نے تو پہلے ہی سے تنبیہ کر دی تھی کہ اہل یہود اور اہل نصاریٰ اللہ کے نور کو بجھانے کی سعی کریں گے ( یعنی دین اسلام کو )۔سورۃ التوبہ میں اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے: يُرِيدُونَ أَنْ يُطْفِـوا نُوْرَ اللهِ بِأَفْوَاهِهِمْ وَ يَا بَى اللَّهُ إِلَّا أَنْ يُتِمَّ نُوْرَهُ وَلَوْ كَرِهَ الْكَفِرُوْنَ (9:32) 45