سلمان رشدی بھوتوں کے آسیب میں

by Other Authors

Page 35 of 205

سلمان رشدی بھوتوں کے آسیب میں — Page 35

سال بعد اور حضرت محمد ( ﷺ) کے چودہ سو سال بعد ا کثر عیسائیوں کے نزدیک اسلام ابھی تک ایک شرانگیز واقعہ سمجھا جاتا ہے حالانکہ یہ عیسائیت سے جغرافیائی طور پر نزدیک ہے اور دراصل اسکی وجہ بھی اس کی جغرافیائی نزدیکی ہے۔عصر حاضر کی زندگی کی نبض پر انگلی رکھ کر حال ہی میں مشہور مصنفین نے اسلام کی نشاۃ ثانیہ کو مغرب کی تاریخ کے دھارے کو بدل دینے والا بدشگون واقعہ قرار دیا ہے۔ہمیں اس حقیقت کو تسلیم کر لینا چاہئے کہ اسلام ہمیں اجنبیت کا احساس دلاتا ہے اور سیاسی اور اقتصادی طور پر ہندومت یا بدھ مت سے زیادہ دھمکی آمیز لگتا ہے۔بہر کیف یہ ایک ایسا امر ہے جسے ہمیں سمجھنے میں دشواری پیش آئی ہے۔" (صفحہ 19 ) ایک ہماری ہمعصر برطانوی ادیب کیرن آرم سٹرانگ صدیوں پرانی زہریلی اینٹی سیمی ٹزم کے بعد یہودیوں اور عیسائیوں میں نئی مفاہمت پیدا ہو جانے پر اظہار خیال کرتے ہوئے سوال کرتی ہے کہ ان دو عظیم ادیان یعنی یہودیت اور عیسائیت کے سکالر یکدم پرانی عداوتوں کو برطرف کر کے صلح کرنے پر کیوں آمادہ ہو گئے ہیں۔شاید انہوں نے اختلافات کو اس وجہ سے نظر انداز کیا ہے کہ اسب سے بڑے دشمن اسلام کی روند تی لہروں کی روک تھام کر کے مغرب کو زیروز بر ہونے سے بچالیا جائے۔جہاں تک تمام دنیا کی خیر سگالی کا تعلق ہے تو اسلام کو اجنبی مذہب سمجھا جاتا ہے۔کیرن آرم سٹرانگ کی زود فہمی کی داد دیجئے کہ اس نے اس امر کا یہ کہہ کر اعتراف کیا ہے کہ " اسلام تمام اہم مذاہب میں سے واحد مذہب ہے جو دائرہ خیر سگالی سے خارج لگتا ہے اور کم از کم مغرب میں اپنا منفی تصور قائم رکھا ہوا ہے باوجود یکہ یہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کا تیسرا مذہب ہے اور مغرب کی یہودی اور عیسائی روایات کے عین مطابق ہے۔لیکن اسلام سے پرانی عداوت بحر الکاہل کے دونوں ساحلوں پر (یعنی یورپ اور امریکہ ) روز افزوں ہے۔اور لوگ اس مذہب پر حملے کرنے سے دریغ نہیں کرتے باوجود یکہ اس کے متعلق ان کا علم محدود ہے۔" آرم سٹرانگ اس نفرت کی وجوہات کی وضاحت یوں کرتی ہے : " جارحیت تو قابل فہم ہے، کیونکہ ہماری صدی میں سوویٹ یونین کے عروج تک کسی طرز حکومت اور آئیڈیا لوجی نے مغرب کو اسلام کی طرح مسلسل چیلنج نہ کیا تھا۔جب ساتویں صدی میں اسلامی سلطنت معرض وجود میں آئی تو اس وقت یورپ ایک پسماندہ علاقہ تھا۔مذہب اسلام نے کمال سرعت سے مشرق اوسط کی دنیائے 35