سلمان رشدی بھوتوں کے آسیب میں

by Other Authors

Page 175 of 205

سلمان رشدی بھوتوں کے آسیب میں — Page 175

اٹھارھواں باب رشدی عوام میں آنا شروع کرتا ہے جب ذرائع ابلاغ کیلئے ارشدی افیئر زیادہ اہمیت کا حامل نہ رہا تو سلمان رشدی نے رفتہ رفتہ ایسے مواقع تلاش کر لئے کہ اس نے ٹیلی ویژن پر آنا شروع کر دیا تا وہ زیادہ سے زیادہ لوگوں کو اپیل کر کے ادیبوں کے آزادی تقریر اور آزادی اظہار کے حقوق کیلئے اپنی جنگ جاری رکھ سکے۔اس نے مغربی دنیا کے ممالک کے سفر شروع کئے تا کچھ نہ کچھ کامیابی سے ہمکنار ہو سکے۔مثلاً ستمبر 1994ء میں اس نے بنگلہ دیش کی فیمنسٹ مصنفہ تسلیمہ نسرین کے ساتھ مل کر ناروے میں ایک سمپوزیم میں شرکت کی جو خود اس کی طرح ناگوار صورت حال سے دو چار تھی۔اس کے ایک ماہ بعد اسے جرمنی مدعو کیا گیا تاوہ یوروپین یونین کے وزرائے خارجہ سے ملاقات کر کے اپنے کیس کو مضبوط بنا سکے ( اس ملاقات کو بھی مسلمانوں کی مخالفت سمجھا گیا تھا)۔۔یکم اکتوبر 1994ء کو رشدی نے بی بی سی ٹو (BBC2) کے ٹیلی ویژن پروگرام Face to Face میں شرکت کی جس میں جیر می آئزہ کس (Jeremy Isaacs) نے اس موضوع پر اس سے گفتگو کی کہ مصنفین کہاں تک کسی کی دل آزاری کرنے میں حق بجانب ہیں خاص طور پر The Stanic Verses کو مدنظر رکھتے ہوئے۔باوجود اس کے کہ ایران کی طرف سے اسے قتل کی دھمکی مل چکی تھی رشدی اپنے کئے پر ہرگز نادم نہ تھا۔بلکہ اس نے مصنفین کے اس حق کا بڑھ چڑھ کر دفاع کیا کہ ان کو متنازع امور کی چھان پھٹک کا حق حاصل ہے۔اس نے کہا کہ " کسی کتاب سے بیزار نہ ہونے کا بہترین طریق یہ ہے کہ اس کو بند کر دیا جائے"۔یہ خیال کتنا احمقانہ اور غیر معقول ہے۔کیا وہ یہ کہنا چاہتا ہے کہ لوگوں کو شہوت پرستی اور بیت الخلاء میں کئے جانے والے کاموں کی کھلے بندوں اجازت ہونی چاہئے اور اگر آپ کو یہ برے لگیں تو اپنی آنکھیں بند کرلیں؟۔175