سلمان رشدی بھوتوں کے آسیب میں

by Other Authors

Page 161 of 205

سلمان رشدی بھوتوں کے آسیب میں — Page 161

سترھواں باب رشدی The Stanic Verses کے دفاع میں فتویٰ کے جاری ہونے کے بعد رشدی ایک نئے دور میں داخل ہوا جب اس نے رسوائے زمانہ ناول کے لکھے جانے کی نا پائیدار تو جیہات پیش کرنا شروع کیں۔کبھی تو وہ ناول کا دفاع کرتا تھا اور کبھی وہ جذبات مجروح کرنے پر عذر خواہیاں پیش کرتا تھا۔اور پھر کبھی وہ بالکل ہی معذرت خواہ نظر نہ آتا تھا۔فتویٰ کے جاری ہونے کے بعد سے لیکر اب تک کے عرصہ نے یہ ثابت کر دیا کہ رشدی کے کردار میں کون سی سیماب نما تبدیلیاں ہوئیں جس سے اس کا اصل کردار ابھر کر سامنے آگیا۔اس پر موت کی سزا لا گو ہونے کے فوری بعد جب رشدی کو جان کے لالے پڑ گئے تو اس نے کتاب کا دفاع یہ کہہ کر کیا : " یہ اسلام یا کسی اور مذہب پر حملہ نہ تھا۔یہ دراصل عصبیت کو چیلنج کر نیکی اور دنیا کے غیر مذہبی اور مذہبی نظریات میں اختلاف کے پڑتال کرنیکی کوشش تھی"۔(The Times, February 15, 1989) اب اس کتاب کو کون افسانہ کہہ سکتا ہے؟ رشدی ٹیلی ویژن کے چینل فور کے ایک پروگرام میں آیا جو بنڈونگ فائل (Bandung File) نے 14 فروری 1989ء کونشر کیا تھا۔اس پروگرام میں اس نے اپنے نظریات کا دفاع کرنے میں کوئی لچک نہ دکھائی۔اس کو مسلمانوں کے رد عمل کی اتنی امید نہ تھی : " میرا خیال تھا کہ ملا لوگ اسے پسند نہ کریں گے۔میں نے تو اس کو ملاؤں کیلئے لکھا ہی نہ تھا۔میں جانتا ہوں ملاؤں نے گزشتہ گیارہ سالوں میں پاکستان میں جو کچھ کیا ہے میں جو مناسب سمجھوں اسے تحریر میں لانے کا حق رکھتا ہوں"۔رشدی کو ملاؤں کے بارہ میں کافی کچھ معلوم ہے۔اسے یہ بھی معلوم ہونا چاہئے کہ ملاؤں کا عوام پر خطرناک حد تک اثر ہے لہذا عوام کا رد عمل ویسا ہی ہوگا جیسا کہ ملاؤں کا۔اس لئے یہ جانتے ہوئے کہ اس سے مسلمانوں کو کس قسم کی چوٹ لگے گی وہ اس بات کو نظر انداز کرتے ہوئے 161)