سلمان رشدی بھوتوں کے آسیب میں

by Other Authors

Page 124 of 205

سلمان رشدی بھوتوں کے آسیب میں — Page 124

میں خلیج عقبہ کے پاس وادی القریٰ میں پہنچے تو تاجروں نے ان کو ایک یہودی کے پاس بطور غلام فروخت کر دیا۔وادی القریٰ میں کھجوروں کے درخت دیکھ کر وہ ورطہ حیرت میں پڑگئے کہ شاید یہ وہی قریہ ہو جس کی تلاش میں وہ سر گرداں ہیں۔ان کے یہودی مالک نے ان کو مدینہ کے قبیلہ بنی قریظہ کے یہودی رشتہ دار کے پاس فروخت کر دیا۔سلمان کے نئے آقا کا ایک چچا زاد بھائی قبہ میں رہتا تھا جو سرور کائنات ﷺ کی آمد کی خبر سن کر مدینہ کی طرف روانہ ہو گیا۔سلمان ایک روز درخت کے بہت اوپر کام میں مصروف تھے جبکہ ان کا مالک درخت کے سائے میں بیٹھا ہوا تھا۔جب سلمان نے قبہ سے آئے ہوئے یہودی سے اپنے چا زاد بھائی کو یہ بتلاتے سنا کہ وہاں ایک ایسا شخص وارد ہوا ہے جو نبی ہونے کا دعوی کرتا ہے ، تو سلمان کو یقین ہو گیا کہ ان کی امیدیں بر آنے لگی ہیں۔ان پر اس خبر کا اس قدراثر ہوا کہ ان کا سارا جسم کانپنے لگا اور وہ قریب قریب درخت سے گرنے لگے تھے۔اس شام وہ اپنے مالک کے گھر سے خموشی سے نکل کر قبہ پہنچ گئے جہاں انہوں نے نبی کریم صلى الله کو اپنے صحابہ کرام کے ساتھ بیٹھے دیکھا۔سلمان آپ کے سامنے آئے اور کچھ کھانے کی اشیاء بطور خیرات کہہ کر پیش کیں۔نبی کریم ﷺ نے حاضرین کو ارشاد فرمایا کہ کھانے کو تناول کریں مگر خود کچھ نہ کھایا۔اگر چہ وہ آپ کی صداقت کے قائل اسی لمحہ ہو گئے تھے جب ان کی آپ پر نظر پڑی تھی مگر جب آپ حضور نے کھانے سے اجتناب کیا تو وہ اور بھی زیادہ قائل ہوگئے۔حضور ﷺ سے ان کی دوسری ملاقات حضرت اسد کے جنازہ کے موقعہ پر ہوئی جس کی تفصیل انہوں نے کئی سال بعد اپنے بیٹے عباس کو یوں سنائی تھی: میں رسول اللہ کے پاس گیا جب آپ بقیع الغرقد ( مدینہ کے جنوب مشرق میں واقع قبرستان ) میں تشریف فرما تھے۔آپ وہاں اپنے ایک صحابی کے جنازہ کے ہمراہ گئے تھے۔تدفین کے بعد جب آپ اپنے چند صحابہ کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے تو میں نے سلام عرض کیا اور آپ کے گردیوں گھوما کہ کسی طرح مہر نبوت کو دیکھ سکوں۔آپ کو معلوم ہو گیا کہ میں کیا چاہتا تھا ، تو آپ نے اپنا چونہ اپنی کمر سے اتار کر پھینک دیا اور میں نے وہ مہر نبوت دیکھ لی جس کا ذکر میرے مرشد نے مجھ سے کیا تھا۔میں نے جھک کر مہر نبوت کو بوسہ دیا اور رونے لگا۔تب رسول اللہ نے مجھے حکم دیا کہ میں 124