سلمان رشدی بھوتوں کے آسیب میں — Page 109
گرنے کو تیار ہو چکا تھا۔وہ اس وقت مکمل سرشاری کی حالت میں تھا، شہرت اور دولت کی فراوانی سے شرم و حیا کی کسی رمق کے بغیر ہر طور سے وہ مخمور ہو چکا تھا۔اس میں شیطانی صفات در آئیں تھیں۔اس نے مکمل طور پر خود کو فروخت کر دیا تھا اور اپنے آقاؤں کی مٹھی میں کٹھ پتلی بن کر بے دست و پا ہو چکا تھا۔اس کے بعد پانچ سال تک خموشی رہی اور پھر سلمان رشدی ادب کی تاریخ کے عالمی منظر پر اپنے رسوائے زمانہ ناول کے ساتھ بے لگام جانور کی طرح چھوڑ دیا گیا۔اور شاید اسکی ایک خواہش یوں پوری ہوگئی کہ اس کے نام کا گھر گھر چرچا ہونے لگے مگر غلط اسباب کی بناء پر۔دی سٹینک ورسز The Stanic Verses سلمان رشدی اور اس کے حامیوں نے بڑے مدلل طریق سے یہ باور کرانیکی کوشش کی ہے کہ دی سٹینک ورسز ایک تخیلاتی ناول تھا اور کسی کو کوئی اختیار حاصل نہیں کہ اس کے تخیل پر پہرے بٹھائے۔ناول کو تفصیل کے ساتھ چھان بین کرنے کے بعد قاری کو بغیر کسی شک وشبہ کے جلد ہی معلوم ہو جاتا ہے کہ ناول کے تمام کردار تخیل کے سوا سب کچھ ہیں۔رشدی اس بات پر مصر ہے کہ جو کہانی اس نے ناول میں پیش کی ہے وہ تمام کی تمام تخیلاتی ہے۔اس کا حقیقت سے دور کا بھی تعلق نہیں ہے۔اگر چہ کہانی کا اصلیت سے کوئی تعلق نہیں لیکن یہ کہانی معروف شخصیتوں کے زندگیوں کو بنیاد بنا رکھی گئی ہے۔عام طور پر فکشن کی کتابوں کے شروع میں لکھا ہوتا ہے کہ " اس کتاب کے تمام واقعات اور کردار تخیلاتی ہیں اور ان کا مقصد کسی مردہ یا زندہ شخص یا واقعہ کو بیان کرنا نہیں ہے۔"حیرانگی یہ ہے کہ رشدی نے ایسا کوئی اعلان ناول کے شروع میں نہیں دیا ہے۔مثال کے طور میں یہاں چند اقتباسات اس ناول سے پیش کروں گا تا کہ قاری خود فیصلہ کر سکے کہ مصنف کے دفاع میں دئے جانے والے دلائل کس قدر بودے اور بے بنیاد ہیں۔مغربی قاری چونکہ اسلامی تاریخ اور آنحضور ﷺ کے صحابہ کے اسماء گرامی سے ناواقفیت رکھتے ہیں اس لئے چند ایک پیراگراف کے مفہوم اور ان کی تعبیر پر انسان ذرا زیادہ غور نہیں کرتا۔چنانچہ وہ اس ناول کو افسانوی مان لیتے ہیں۔لیکن دنیا میں پھیلے ہزاروں ہزار مسلمانوں کیلئے ، جو رسول اکرم صلى الله کو سب سے زیادہ عزت دیتے ہیں ، یہ ایک متحدہ اور دیدہ و دانستہ کوشش تھی کہ ان کے 109)