سلمان رشدی بھوتوں کے آسیب میں

by Other Authors

Page 108 of 205

سلمان رشدی بھوتوں کے آسیب میں — Page 108

اظہار خیال کرتے ہوئے نہایت ہتک آمیز رنگ میں اچھال کر پیش کیا گیا ہے کہ وہاں عورتیں زنجیروں میں جکڑی ہوئی ہیں۔اس پر زیادہ سے زیادہ لکھ کر اس بات کی پوری پوری کوشش کی گئی ہے کہ پاکستان ایک غیر مہذب اور گنواروں کا ملک ہے جو مذہبی عقائد کے گرداب میں پھنسا ہوا ہے۔رشدی لکھتا ہے : " عام طور پر کہا جاتا ہے اور میرے خیال میں پاکستان کے بارہ میں ٹھیک کہا جاتا ہے کہ وہاں کی خواتین مردوں کی نسبت زیادہ جاذب نظر ہیں، لیکن ان کی زنجیریں تخیلاتی نہیں، وہ موجود ہیں اور روز بروز وزنی ہورہی ہیں۔" (صفحہ 173) اسلامی بنیاد پرستی کے بارہ میں مغربی محققین کے نظریات کو بھی رشدی کی تحریروں میں بیان کیا گیا ہے مگر اتنی ہی اہانت کے ساتھ۔وہ پاکستان کا ذکر کرتے ہوئے کہتا ہے کہ یہ ایک 'بدنصیب' مملکت ہے کیونکہ یہاں ان کے مذہب کے متعلق افسانوی خیالات پائے جاتے ہیں، جو رشدی کے نزدیک اس کی شہرت میں کمی کا اصل باعث ہیں۔رشدی لکھتا ہے : " بہت کم افسانوی کہانیوں پر عمیق رنگ میں نظر دوڑائی گئی ہے، اور اگر ان کو عوام پر زبردستی ٹھونسا جائے تو وہ بہت غیر مقبول بن جاتی ہیں۔ذرا سوچیں اگر کسی انسان کو ایک بڑی مقدار میں ہضم نہ ہونے والے کھانے زبر دستی کھلائے جائیں تو انسان بیمار پڑ جاتا ہے۔انسان غذائیت سے محروم ہو جاتا ہے۔قاری شاید قے بھی کر دے۔یہ مزعومہ اسلامی بنیاد پرستی پاکستان کے عوام کے اندر سے شروع نہیں ہوئی ، بلکہ اس کو ان پر ٹھونسا گیا ہے اسی طرح مذاہب آمر حکام کی پشت پناہی کیا کرتے ہیں ایسے طاقت ور الفاظ کے ذریعہ، جن کا انکار کرنے میں عوام پس و پیش کرتے ہیں۔ان کو حقوق سے محروم کیا جاتا ہے اور ان کا استہزاء کیا جاتا ہے۔انجام کا رانسان بیمار ہو جاتا ہے اور اپنے ایمان پر اعتقاد کھو بیٹھتا ہے"۔(صفحہ 251) اس کی گزشتہ کتابوں کی طرح 'Shame' کا اختتام بھی اس کے اپنے الفاظ میں اس انجام کو احاطہ تحریر میں لاتا ہے جو اس کا منتظر تھا۔وہ وقت زیادہ دور نہیں جب اس کا ضرب المثل اونچا اڑنے والا غبارہ پھٹ جائیگا : "خون اور گوشت کے بنے جسم کے اندر شیم کے جانور کی طاقت کو زیادہ دیر تک دبایا نہیں جاسکتا کیونکہ یہ نشو و نما پاتا ہے۔یہ غذا کھا کر فربہ ہو جاتا ہے حتی کہ شریان پھٹ جاتی ہے"۔(صفحہ 286) ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اشیم ' ناول کی اشاعت کے بعد سلمان رشدی پھل کی طرح پک کر 108)