سلمان رشدی بھوتوں کے آسیب میں

by Other Authors

Page 105 of 205

سلمان رشدی بھوتوں کے آسیب میں — Page 105

اس کے خلاف اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ ان باتوں کا پورا ذ کر یہاں نہیں کر سکتا تھا کیونکہ یہ حقائق پر مبنی ناول نہیں ہے۔اس نے پاکستان کے ہر طبقہ میں رشوت خوری کا ذکر کیا ہے اور عورتوں کے مزعومہ تھرڈ کلاس شہری ہونے کا اشارہ یہ کہہ کر کیا ہے کہ سندھ کلب کراچی کے باہر یہ سائن لگا ہوا تھا، عورتیں اور کتے اندر داخل نہیں ہو سکتے۔مگر شاید سب سے زیادہ چھتی ہوئی اور تیزابی بات اگلے دو پیراگراف میں کہی گئی ہے جن میں آئندہ ہونے والے واقعات و حالات کی طرف اشارہ ملتا ہے جن سے وہ دو چار ہو نیوالا تھا۔یاد رہے کہ یہ ناول 1983ء میں لکھا گیا تھا، یعنی ادی سٹینک ورسز سے پانچ سال قبل۔ہر لفظ اور ہر فقرہ کو نوٹ کریں جنہوں نے اس کی زندگی کو درہم برہم کرنے میں بدشگون بننا تھا۔اس نے لکھا: " اب تک اگر میں اس قسم کی کتاب لکھ رہا ہوتا ، اس بات سے مجھے کوئی فائدہ نہیں ہونا تھا کہ میں عالمی امور پر لکھ رہا ہوں بجائے صرف پاکستان کے۔اس کتاب کو ضبط کر لیا جانا تھا، کتاب کچرے کے ڈبے میں پھینک دی جاتی اور نذرآتش کر دی جاتی۔اس تمام کوشش کا ماحصل کچھ بھی نہ ہونا تھا۔حقیقت نگاری بعض دفعہ مصنف کا دل توڑ دیتی ہے، خوش قسمتی سے میں تو صرف ایک جدید زمانے کی ایک من گھڑت کی کہانی سنا رہا ہوں، تو پھر ٹھیک ہے، کسی کو ناراض ہونے کی ضرورت نہیں، اور نہ ہی اسے سنجیدہ معاملہ بنانے کی ضرورت ہے۔کوئی سخت قدم اٹھانے کی ضرورت نہیں، اب تو سکھ کا سانس لے سکتا ہوں"۔(صفحہ 70) چونکہ اس کتاب کو کم شہرت دی گئی تھی رشدی کے خیالات اور مشاہدات سے لوگ ناواقف رہے۔لیکن وہ لوگ جنہوں نے دیکھا کہ یہ ادیب ان کے بدار ا دوں کے پورا کرنے میں کام آسکتا ہے وہ خوش ہو رہے تھے کیونکہ ان کو ایسا سنہری موقعہ مل گیا تھا جس کو وہ کھو دینا مناسب نہیں سمجھتے تھے۔بدشگونی کے آثار تاہم رشدی کی تحریروں میں پہلے ہی سے موجود تھے۔اور زیادہ وقت نہیں گزرا کہ وہ اس نے وہی دلائل جان بچانے کیلئے استعمال کئے۔لیکن اس کیلئے اب فرار کا کوئی راستہ نہ تھا۔اور نہ ہی کسی نے اس کی دستگیری کرنی تھی۔بلکہ معاملہ اس کے برعکس ہوا۔اس کو اپنی جان کے لالے پڑ گئے۔اس کو اس بات کا وہم و گمان بھی نہ تھا کہ وہ تمام دلائل جو اس نے ٹھٹھا کرنے کیلئے استعمال کئے تھے وہی اس کی جان کی خلاصی کریں گے۔105