سلمان رشدی بھوتوں کے آسیب میں

by Other Authors

Page 96 of 205

سلمان رشدی بھوتوں کے آسیب میں — Page 96

ٹڈ نائٹس چلڈرن Midnight's Children ٹڈ نائٹس چلڈرن رشدی کا دوسرا ناول تھا جو اس نے 1981ء میں قلم بند کیا۔اس کے شائع ہونے پر اس کو متعد دادبی ایوارڈ دئے گئے، بشمول فکشن کیلئے بوکر پرائز Booker) (McConnel Prize۔یہ بات شاید کرشمے سے کم نہیں کہ صرف دو مرحلوں میں ایک مصنف جس کی اس سے پہلے کوئی شہرت نہ تھی راتوں رات اچانک بوکر پرائز کا حق دار بن گیا، جبکہ اس نے اس سے پہلے صرف ایک کتاب لکھی تھی۔لیکن بلا شبہ یہ ایک کرشمہ ہی تھا، اور شاید یہ چند خفیہ طاقتوں کے طویل المیعاد منصوبے کا حصہ اور عذر تھا کہ وہ اپنے خفیہ ہتھیار کی شہرت کو عروج تک پہنچائیں اور بعد میں اس کو شک نہ کر نیوالی اسلامی دنیا پر اسلحہ کے طور پر استعمال کریں۔کتاب کے بیرونی صفحہ کی اندرونی طرف لکھا ہے کہ یہ ناول سلیم سینائی کے متعلق ہے : جو 1001 بچوں میں سے ہے جو آدھی رات کو اس وقت پیدا ہوئے ، ان میں سے ہر ایک کو خاص الخواص قابلیت عطا کی گئی تھی، اور جس کا فائدہ اور ساتھ ہی لعنت یہ تھی کہ وہ اپنے دور کے آقا بھی تھے اور آفت رسیدہ بھی "۔کیا یہ ستم ظریفی نہیں کہ یہی بات سلمان رشدی پر لاگو ہو سکتی ہے؟ فکشن کے بارہ میں اس کی 'خاص الخواص قابلیت' نے اس کو اپنے پیشے کا ماہر ہونے کی بناء پر انعامات سے نوازا جن میں سے ایک فکشن کا بو کر پرائز تھا۔اس کے بعد کی اس کی کتاب یعنی ادی سٹینک ورسز 'The Stanic Verses اس کے لئے لعنت ثابت ہوئی اور بلاشبہ وہ اپنے دور کا آفت رسیدہ بن گیا۔کچھ بھی ہو یہ کہہ دینا بھی ضروری ہے کہ یہ لعنت اس کی کرتوتوں کی بناء پر تھی۔وہ اپنی قسمت کا خود مالک تھا۔قرآن پاک کی آیت سلمان رشدی کی قسمت پر چسپاں ہوتی ہے: فَأَصَابَهُمْ سَيِّاتُ مَا عَمِلُوْا وَحَاقَ بِهِمْ مَّا كَانُوا بِهِ يَسْتَهْزِءُ وْنَ (سورة الحل - 16:35) پس انہیں ان کے اعمال کی برائیاں پہنچیں اور انہیں اس نے گھیر لیا جس کے ساتھ وہ تمسخر کیا کرتے تھے۔یہ آیت اس حقیقت کی طرف ہماری توجہ مبذول کراتی ہے کہ برے فعل کی سزا کچھ اس سے زیادہ نہیں ہوتی بلکہ برے فعل کا لازمی نتیجہ اور اس کے ہم مقدار ہوتی ہے۔میہ رب العالمین کی شان ہے کہ وہ ایک انسان کی قسمت بالکل اسی طرح کر دیتا ہے جیسا کہ 96