سلمان رشدی بھوتوں کے آسیب میں

by Other Authors

Page 97 of 205

سلمان رشدی بھوتوں کے آسیب میں — Page 97

اس نے اپنے زوال میں خود حصہ لیا ہو ، یوں وہ نادانستہ طور پر اپنے لئے سزا کی پیش گوئی کر لیتا ہے۔یہی چیز سلمان رشدی کے ساتھ ہوئی جس نے اپنی اول الذکر کتابوں میں بے خبری سے اپنے زوال کی پیش گوئی لفظ بہ لفظ کی تھی۔یہ چیز وقت آنے پر قاری پر بخوبی ظاہر ہو جائیگی۔Midnight's Children کہنے کو تو بچوں کی فکشن کی کتاب ہے (اسی لئے اسے فکشن کا ادبی ایوارڈ دیا گیا ، لیکن رشدی نے مڈ نائٹس چلڈرن کی کہانی کو ان تاریخی واقعات کے پس منظر میں استعمال کیا ہے جن کا تعلق ہندوستان میں برطانوی سلطنت کے اختتام، نیز تقسیم ہند اور پاکستان کی نئی مملکت کے قیام سے ہے۔کتاب میں تاریخی شخصیتوں کے اصل نام استعمال کئے گئے ہیں جیسے گاندھی ، جناح، ماؤنٹ بیٹن، نہرو وغیرہ۔رشدی کا نقطہ نظر اور خیالات کتاب میں صاف صاف طور پر بیان کئے گئے ہیں، اس نے انگریزوں کا شکر یہ متعدد بار ادا کیا ہے ( وہ کم از کم اتنا تو کر سکتا تھا کیونکہ آرٹس کونسل آف گریٹ برٹن نے اس کو ادبی وظیفہ اور مالی امداد اس کی تمام کتابوں کیلئے دی تھی )۔مثال کے طور پر ایک انگریز William Methwold کہیں سے نمودار ہو جاتا ہے، جو کہ کتاب کا مرکزی کردار ہے اور بڑے تحقیرانہ انداز میں کہتا ہے : " کئی سوسالوں کی فلاحی حکومت ، جو یک لخت ہوا میں تحلیل ہو گئی۔تم اس امر سے اتفاق کرو گے کہ ہم لوگ اتنے برے بھی نہیں تھے : ہم نے سڑکیں تعمیر کیں ، سکول بنائے ، ریل گاڑیاں، پارلیمنٹری نظام، تمام کام کی چیزیں۔تاج محل بوسیدہ ہو کر زمین بوس ہو رہا تھا تا وقتیکہ ایک انگریز نے اس کی حفاظت کا سوچا۔اور پھر اب اچانک آزادی"۔(صفحات 96-95) کتاب پر عمیق نظر ڈالنے سے معلوم ہوتا ہے کہ رشدی کا بچپن کیسے گزرا، اس پر کن لوگوں نے اثر کیا، اس کی بنیادی تربیت، اس کی ادنی خواہشات اور اس کا مذہب کے بارہ میں تحقیرانہ رویہ۔وہ ایک کمزور غذر پیش کرتا ہے کہ اس نے اور اس جیسے افراد نے مغربی طرز معاشرت کے سامنے گھٹنے کیوں ٹیک دئے: "ہندوستان میں ہم لوگ ہمیشہ یوروپین لوگوں سے متاثر رہے ہیں" (صفحہ 182) اس کے بچپن پر نظر ڈالنے سے معلوم ہوتا ہے کہ مذہب کی توہین کرنا اوائل عمر سے ہی اس کی گھٹی میں پڑ گیا تھا۔مذہب کو وہ سر درد اور اس پر عمل کرنا کڑوی دوا کے طور پر پینا سمجھتا تھا: "ہمارے خاندان میں ہم لوگ زیادہ نمازیں ادا نہ کرتے تھے ماسواعید الفطر کے جب میرے والد 97