سلمان رشدی بھوتوں کے آسیب میں

by Other Authors

Page 87 of 205

سلمان رشدی بھوتوں کے آسیب میں — Page 87

صورت حال کا دوبارہ جائزہ لیتے ہوئے ہم ہندوستان کو جاتے ہیں جس وقت آخری صدی کا اختتام ہو رہا تھا۔ویسٹرن کولونیلزم کی موجودگی ، آزاد خیالی کا اثر ، اور اس کے نتیجہ میں مسلمانوں کے دینی فکر کی تشکیل نو ، جس کی پشت پناہی مغربی طاقتوں کے در پردہ عیسائی مشنری تحریک کر رہی تھی، ایک بڑی تعداد میں مسلمان اسلام سے نکل کر عیسائیت میں داخل ہو گئے۔خیر کچھ بھی ہو، اور بہت سے لوگ ایسے بھی تھے جنہوں نے اسلام سے عیسائیت تک کی حدود تو پار نہ کیں ،مگر جب وہ اپنے تہذیبی ماحول سے غیر مطمئن ہو گئے تو انہوں نے اس سے مقابلہ کرنے کی ٹھان لی۔وہ نسلی، لسانی اور طبقاتی ماحول میں رہنا پسند نہ کرتے تھے، وہ اپنی ہی تہذیب پر شرمندگی محسوس کرنے لگے۔ان میں احساس کمتری پیدا ہو گیا۔وہ مسلمان صرف نام کے تھے اور اس بات پر ہی ان کا تعلق اسلام کے ساتھ ختم ہو جاتا تھا۔ان کی سوچ اور نقطہ نظر کلی طور پر مغربی تھے۔ان کی سب سے بڑی آرزویہ تھی کہ مغربی طرز زندگی میں وہ کسی بھی طرح قبول کر لئے جائیں۔تو یہ تھا مغرب سے تعلیم یافتہ لوگوں کا نیا طبقہ جن میں سے اکثر نے اسلامی عالمی نقطہ نظر سے اتفاق نہ کیا۔یہ تھے نام نہاد مغرب کے اونچے طبقہ والے جن سے سلمان رشدی کے خاندان کا تعلق تھا۔87