سلمان رشدی بھوتوں کے آسیب میں — Page 86
نصب العین یہی رہا کہ وہ قرآن پاک میں اندرونی تضادات تلاش کرنے کی کوشش کریں، تناقضات نکالیں، اور تاریخی حقائق کے بیان میں غلطیاں ہرصورت میں ڈھونڈیں، چاہے اس مقصد کے حصول میں افتراء اور فریب کو ہی کیوں نہ استعمال میں لانا پڑے۔اس ضمن میں خصوصاً اہل یہود نے حسد اور کینہ کے اظہار میں مسابقت لے جانے میں پوری کوشش کی۔آنحضور ﷺ کے دعویٰ کہ وہ اللہ سے وحی پاتے ہیں ، یہ دعویٰ یہودیوں کے ہر دلعزیز عقیده که صرف یہودی ہی خدا کی پسندیده و چنیدہ قوم ہیں اور صرف انہی کے ذریعہ خدا اپنے آپ کو منکشف کرتا ہے، اس کی تردید کرتا تھا۔اس حسد نے غالباً ایک دوسری توجیہہ کو جنم دیا کہ دشمنان اسلام نے کیونکر شیطانی خیالات کو نبی کریم ﷺ سے منسوب کیا؟ اسلئے تا کہ یہ ثابت ہو سکے کہ مسلمانوں کی مقدس کتاب پر خدائی منظوری کی مہر نہ ثبت ہو جائے۔ہانس کنگ نے بھی مغربی محققین کی اس غلطی کا اپنی کتاب میں اس موضوع پر بحث کرتے ہوئے کہ آیا قرآن اللہ کا کلام ہے یا نہیں، اعتراف کیا ہے : "صرف عیسائی محققین نے ہی نہیں بلکہ بعد میں لا دینی ذہنیت کے مالک مغربی دینی علماء نے بھی بغیر سوچے سمجھے قرآن کو کلام الہی ہونے کی بجائے اسے محمد کا کلام سمجھ کر اس کا مطالعہ کیا"۔(Christianity & the World Religions, page 29) بلکہ واٹ بھی خود اپنی کتاب میں مغربی مستشرقین کی اسلام پر غیر متوازن تنقید پر تبصرہ کرتے ہوئے کہتا ہے "اگر چہ انہوں (مستشرقین ) نے جو کچھ کہا سچ کہا وہ اسلام پر اپنی تنقید جس سے بطور مذہب اسلام کی اقدار اور کارناموں کی مثبت تحسین نظر آتی ، اس میں توازن پیدا کرنے میں ناکام رہے۔اس لئے یہ ہر گز باعث تعجب نہیں کہ مسلمان مستشرقین سے عناد ر کھنے لگے "۔(Muslim-Christian Encounters, page 115) مغرب کے اونچے طبقہ کا پس منظر ابھی تک جو دلائل پیش کئے گئے ہیں وہ کسی نہ کسی طرح وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اور تاریخی حقائق کے ذریعہ دانستہ یا بعض صورتوں میں نا دانستہ طور پر، ہماری توجہ اس زمانہ کے "رشدیوں " کی موجودہ نسل کی افزائش کی طرف مبذول کراتے ہیں۔86