سلمان رشدی بھوتوں کے آسیب میں — Page 72
اسے قبول کر لیا ایک صورت میں نہیں تو اگلی میں سہی۔اسلام پر حملے کرنے میں جھوٹی گواہی کا استعمال آفاقی صورت اختیار کر چکا تھا۔" (صفحہ 241-240) ڈاکٹر ڈینیل اپنے ہم عصروں کی طرح بلاخوف تردید اغلط بیانی اور عیسائیوں کے اصل خوف کی وجہ بیان کرتا جو یہ ہے کہ اسلام نے اہل مغرب کو اپیل کرنا شروع کر دیا تھا: " عہد وسطی بھی دوسرے ادوار کی طرح تھا جس میں تاریخی حقائق اور مخالفوں کے نظریات کو از سر نو ترتیب دیا گیا تا که بلند و بانگ مقصد کیلئے مناسب ثابت ہوں۔یہ بیان کرنا اہم ہے کہ حقائق اور اسلامی عقائد کی یوں دوبارہ ترتیب دی گئی کہ اس سے ان کی تردید ہوتی تھی اور ان کا مقصد بھی عیسائیوں کے لئے تردید ہی تھا۔درحقیقت اسلام کو کبھی اسطرح پیش نہیں کیا گیا کہ وہ مسلمانوں کیلئے نفرت انگیز ہو۔اس میں کیا شک ہے کہ اسقدر مواد تو تھا ہی جس سے مسلمانوں میں نفرت پیدا ہو جائے۔لیکن اسلام کا جو نا خوشگوار عکس عیسائیوں نے تیار کیا وہ عیسائی آنکھوں کو نا خوشگوار بنانے کیلئے بنایا گیا تھا۔کسی نہ کسی طرح اسلام کو غیر مؤثر بنا دیا گیا یا غیر مشابہ یا پھر واقعی تمام اہم عیسائی تعلیمات سے متناقض"۔(صفحات 265-264) اسلام کے کٹر مخالفین جو ڈاکٹر ڈینیئل کی طرح کے ہیں وہ اوپر بیان کردہ حقائق سے ہرگز انکار نہیں کر سکتے۔اس کو کئی بار اسلام سے عیسائیت کو خطرہ اور حسد کا اعتراف کرنا پڑا۔اس کے فوراً بعد ایک مثال پیش کی گئی: "اسلام ابھی تک جنگی محاذ پر تھا اس بناء پر بطور دشمن اس کا برملا اعتراف ضروری تھا اور اس رنگ میں پیش کیا جانا کہ اس سے عیسائی تہذیب کے کسی ایک جزو کو بھی بدلنا نہ پڑے اہم بات یہ تھی کہ مغرب کیلئے موزوں اور یہ وقتی ضرورت کے مطابق تھا۔اس طریق سے عیسائیوں کو ارتداد سے محفوظ رکھنا تھا۔اس چیز سے دنیائے عیسائیت کو عزت نفس ملی تا اس تہذیب کا مقابلہ کر سکے جو اس سے بدر جہا بہتر تھی۔"(صفحہ 270) جبر والی مورتی اسلام کے بارہ میں سب سے زیادہ مقبول عام فرضی کہانی جو تخلیق کی گئی وہ یہ تھی کہ اسلام کس طرح پھیلا؟ نیز یہ دعویٰ کہ اسلام طاقت کے بل بوتے پر پھیلا جس کے لئے تلوار استعمال کی 72