سلمان رشدی بھوتوں کے آسیب میں — Page 62
رکھنے والا بنا کر پیش کیا گیا جو ایک کے بعد دوسری بیوی کے پاس جنسی تشفی کے لئے جاتا رہتا ہے۔آنحضرت کے بچپن کے واقعات کو غیر معتبر اور ان کا حوالہ فرضی کہانیوں کے طور پر دیا گیا ہے۔یہ کہا نیاں وقت گزرنے کے ساتھ زیادہ خوبصورت اور روحانی طور پر بہتر ہوتی چلی گئیں (صفحہ 143 )۔روڈ نسن لکھتا ہے کہ زمانہ نبوت سے پہلے محمد (صلعم ) اپنے آباء والے مذہب کی پیروی کرتے تھے۔وہ مزید کہتا ہے کہ انہوں نے العزیٰ کی دیوی پر ایک بھیڑ کا چڑھاوا چڑھایا تھا۔(صفحہ 48) وہ احادیث کو مفروضی سمجھتا ہے اور ان کے بارہ میں جعلسازی کے لفظ استعمال کرتا ہے۔صلى الله نبی پاک ﷺ پر الزامات اس کتاب میں آنحضرت ﷺ کو دیوانہ ، عارف ، کا ہن ( قسمت کا حال بتلانے والا ) انقلابی ، اور وہ جس کو مرگی کے دورے پڑتے ہوں کہا گیا ہے۔(صفحہ 57-53)۔روڈنسن یہ بھی کہتا ہے کہ مثال کے طور پر اٹھارویں صدی کے عقلیت پسند فلسفی بھی عذرخواہ عیسائیوں اور علمائے دین کی طرح محمد کو با کمال فراڈا کی عمدہ مثال کے طور پر دیکھتے ہیں۔(صفحہ 76) جب اسلام کا آغاز ہوا اس وقت بلاشبہ عرب کے ملک کی حالت تاریخ عالم میں بدترین سمجھی جاتی تھی۔ناقدین نے اس قسم کا تاثر دینے کی کوشش کی ہے کہ اس زمانہ کے اثرات کا محمد (صلعم) اور آپ کے صحابہ پر بھی ضرور اثر ہوا ہو گا۔جبکہ روڈنسن مزید لکھتا ہے : " وہ ( محمد ) جس دور میں رہتا تھا اور اُن عربوں کی جن کی اس نے قیادت کرنی تھی ان کی ناشائستہ فطرت کے پیش نظر انہیں مرعوب کرنے کے لئے اسے فراڈ کرنے کے سوا کوئی چارہ نہ تھا۔" (صفحہ 76) جہاں تک اسلام کے ابتدائی سالوں میں جنگوں کا تعلق ہے محمد (صلعم) کو جارح کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔ایسا جارح جس نے جنگی قیدیوں پر کوئی رحم نہ کیا اور وہ اپنے مقصد کے حصول کے لئے سب کچھ کر گزرنے کیلئے تیار رہتا تھا۔روڈنسن لکھتا ہے : " وہ رضا کار جس نے آپ کو قتل کرنا اپنے ذمہ لیا تھا، اس نے پیغمبر اسلام سے وضاحت کی کہ فریب کاری ، عیاری، اور جھوٹ کا سہارالینا ضروری ہے۔محمد نے اس کو قابل اعتراض نہ سمجھا۔" (صفحہ 176)۔آنحضور ﷺ کو اس طور سے پیش کیا گیا ہے کہ ان میں صبر نام کا بھی نہیں تھا اور وہ ہمیشہ غصہ میں بپھرے رہتے تھے اور اس وجہ 62