سلمان رشدی بھوتوں کے آسیب میں

by Other Authors

Page 24 of 205

سلمان رشدی بھوتوں کے آسیب میں — Page 24

قانون خدائی قانون تھا اس لئے اسے گناہ کے زمرہ میں شمار کیا جاتا تھا" (Christianity and the World Religions, p 104) جیسا کہ تاریخ میں اپنے اپنے دور کی بڑی طاقتوں کے ساتھ ہوتا آیا ہے کہ کبھی وہ وقت بھی سر پر آن پڑتا ہے کہ ایوان حکومت لڑکھڑانے لگتا ہے اور رفتہ رفتہ لیکن یقینی طور پر ناممکن ممکن میں بدل جاتا ہے اور بڑی سلطنت کی طاقت ایک ہاتھ سے نکل کر دوسرے ہاتھ میں چلی جاتی ہے۔مغرب میں گیارھویں صدی کے اواخر میں مسلمان عہد حکومت کے ساتھ بھی یہی کچھ ہوا جو خدائی منصوبہ کے عین مطابق تھا اور اس کی پیش خبری قرآن مجید میں دی جا چکی تھی۔گیارھویں صدی میں اتحاد کا شیرازہ بکھر نے لگا، اور مسلمان عہد حکومت کے حصے بخرے ہونے لگ پڑے۔شمال مغربی سپین کے شہزادوں کے ہاتھ موقعہ لگ گیا ( جواب تک نیم آزاد تھے اور مسلمانوں کی مرکزی حکومت کو خراج ادا کرتے تھے ) کہ وہ مکمل طور پر آزاد ہو جائیں اور ان علاقوں پر قبضہ کر لیں جو ان کے تابع تھے۔رفتہ رفتہ اسلامی حکومت المرابطون کے ہاتھوں سے نکل کر بر بر اقوام کے ہاتھوں اور وہاں سے الموحد حکمرانوں کے ہاتھ میں آگئی۔الموحد حکومت کے خاتمہ کے بعد عیسائی فاتحین نے بڑی تیزی سے ترقی کرنا شروع کر دی۔اگر چہ ہسپانوی مؤرخین میں بھی عربوں سے آزادی اور دوبارہ قبضہ (Reconquista) کے بارہ میں اختلاف پایا جاتا ہے لیکن اتنی بات ضرور واضح ہے کہ اس کا آغاز اس وجہ سے ہوا تا کہ اسلامی تہذیب اور طرزفکر کی لہروں کو تھام لیا جائے کیونکہ اس سیلاب میں عیسائیت نے بھی ڈوب جانا تھا۔اسلامی تہذیب اس قدر ترقی یافتہ تھی کہ عیسائیوں کے پاس مسلمانوں کو سپین سے نکالنے کے حق میں کوئی دلیل باقی نہ رہی تھی۔حتی کہ 1602 ء تک جب ویلنسیا (Valencia) کالاٹ پادری جب بادشاہ فلپ سوم کو مسلمانوں کے ملک بدر کرنے کی وجوہات بیان کر رہا تھا تو اس نے یوں تبصرہ کیا : " وہ تو تمام مذہبی امور میں آزادی ضمیر کے حق میں ترانے گاتے ہیں۔ترک قوم اور پیروکاران محمد ( ﷺ ) اس میں مبتلا ہیں اور وہ عوام کو اس سے لطف اندوز کرانا چاہتے ہیں۔" ہائے بیچارے عیسائیوں کو آزادی سے عبادت کرنے پر مجبور کیا گیا، انہیں کھلم کھلا اپنی 24