سلمان رشدی بھوتوں کے آسیب میں

by Other Authors

Page 154 of 205

سلمان رشدی بھوتوں کے آسیب میں — Page 154

14 فروری 1990 ء کے اداریہ میں ایک بصیرت افروز اور معقول نقطہ نظر پیش کیا گیا تا نزاعی گروہوں کے مابین کسی قسم کی مصالحت کا سامان پیدا کیا جا سکے۔مثلاً اس میں اسلام کو ہمدردانہ رنگ میں پیش کیا گیا : " اسلام ایک جنگ و جدل والا دین نہیں ہے۔قرآن میں یہ چیز موجود ہے کہ حضرت محمد نے تاکید کی کہ ایک ہتک خدا و رسول کرنے والے شخص کے ساتھ ہمدردانہ سلوک کیا جائے جس نے آپ کپر پاجی اور کمینہ ہونے کا الزام عائد کیا تھا"۔مذکورہ اقتباس مسلمانوں کے اس غصہ کے اظہار کی بھی حمایت کرتا ہے : " جو شکایت کرنے میں حق بجانب ہیں کہ جس طور سے رشدی نے استحقاق کے بغیر ان کے عقائد کا تمسخر کیا ہے جوان کے نزدیک مقدس ہیں۔اور انہیں یہ حق حاصل ہے کہ وہ صدائے احتجاج بلند کریں اور مصنف کو منہ توڑ جواب دیں۔" ادار یہ تحریر کر نیوالے نے مسلمانوں کو مد برانہ مشورہ دیا ہے کہ وہ: " ( برٹش اور اسلامی قانون کے تحت) غیر قانونی فتویٰ سے اپنا تعلق توڑ لیں۔اس کے ساتھ اس نے بڑی ہوشیاری سے اس بات کی بھی نشاہدہی کی ہے : " صرف تشدد پسند ملاؤں کی تھوڑی سی تعداد نے موت کی سزا کی حمایت کی ہے"۔اور یہ کہ عوام کو یہ بھیانک اور خطر ناک تاثر دیا جاتا ہے کہ وہ اکثریت کی نمائندگی کرتے ہیں "۔مقام افسوس ہے کہ طاقتور اور بارسوخ اسلام مخالف گروہوں کے آپس میں گٹھ جوڑ کی وجہ سے یہ دیر پا تاثر ابھی تک قائم ہے، یعنی مغربی ذرائع ابلاغ اور پوری دنیا کی مصنفین کی انجمنوں نے رشدی کو ہیرو بنا دیا ہے۔154