سلمان رشدی بھوتوں کے آسیب میں — Page 128
الله کر سکتا ہے؟ کیا تمہیں پتہ ہے اس عورت نے کیا کہا ؟ یہ کہا، جب تمہیں کسی گڑ بڑ والے معاملے کو سنوارنا ہوتا ہے تو تمہارا خدا فوراً آن وارد ہوتا ہے۔"(صفحہ 386) اس سے اگلے پیراگراف میں رشدی ایک اور واقعہ کو پیش کرتا ہے جو آنحضور ﷺ اور حضرت عائشہ سے تعلق رکھتا ہے۔اس واقعہ کے بیان کر نیکا مقصد یہ تھا کہ وہ ہتک آمیز زبان میں اس واقعہ کو گمراہ کن طریق سے پیش کر سکے۔یہ وہ واقعہ ہے جس میں بعض شرارت پسندوں نے حضرت عائشہ کے پاکیزہ کردار پر داغ لگانے کی کوشش کی تھی۔خدا کی طرف سے آنیوالی وحی سے یہ معاملہ سدھر گیا اور حضرت عائشہ اس الزام سے بری ہو گئیں۔رشدی نے اس واقعہ کا انتخاب بھی کسی کے جذبات کا خیال رکھے بغیر ٹھٹھا کرنے کیلئے کیا ہے: "آؤ اس کے علاوہ ایک اور بات بتاتا ہوں، شہر کی گرما گرم خبر ، واہ واہ ، صحرا میں دونو جوان افراد کئی گھنٹوں تک اکیلے تھے اور اس بات کی طرف اشارہ بلند آواز میں لوگ کر رہے تھے کہ صفوان بہت ہی من چلا خوبصورت نوجوان تھا جبکہ پیغمبر اس جوان عورت سے عمر میں کافی بڑا تھا، اور کیا یہ ممکن نہ تھا کہ وہ عورت اپنی عمر کے برابر شخص کے لئے کشش رکھتی تھی ؟ اب ماہونڈ کیا کرے گا ؟ بعل یہ جاننا چاہتا تھا۔اس نے پھر کر دکھایا ، سلمان نے جواب دیا، پہلے کی طرح اس نے اپنے پالتو بڑے فرشتے کو دیکھا اور سب سے کہہ دیا کہ جبرائیل نے عائشہ کو بری الذمہ قرار دے دیا ہے۔' سلمان نے دست برداری کے رنگ میں اپنے بازو پھیلا دئے۔اور اس بار جناب اس خاتون نے عین موقعہ پر نازل ہو نیوالی آیات کے بارہ میں شکایت نہ کی "۔( صفحات 386/387) نبی آخر الزماں ﷺ کی وفات کے معاملہ میں بھی رشدی نے کہیں سے تاریخی واقعات تراش لئے ہیں اور اپنی ہوس پرست طرز تحریر جعلی واقعات کے ساتھ اس لئے استعمال کی ہے تا وہ اسٹینک ورسزا کا موضوع پھر الات کے لبادہ میں زیر بحث لا سکے۔وہ اس خیال کو تقویت دینا چاہتا ہے کہ سرور کائنات ﷺ اپنی وفات کے وقت تین دیویوں سے متاثر تھے جس بناء پر ان کی رسالت کے آغاز میں اس قدر تنازعات پیدا ہوئے تھے۔رسول اللہ کی وفات کا تذکرہ وہ ان الفاظ میں کرتا ہے: ایک گھنٹہ کے اندر یہ خبر لوگوں تک پہنچ گئی کہ پیغمبر یعنی ما ہونڈ ، خطرنات مرض کا شکار ہو گیا 128