سلمان رشدی بھوتوں کے آسیب میں — Page 98
مجھے جامع مسجد عید کا تہوار منانے کیلئے لے جاتے جس کا مقصد سر پر رومال باندھ لینا اور زمین سے اپنا ماتھا ٹیکنا تھا "۔(صفحہ 178) نماز جو کہ ایک مسلمان کے ایمان کا بنیادی حصہ ہے، اس کا مذاق اڑایا گیا اور اسے ایک طور سے سزا کہا گیا ہے۔رشدی تقسیم ہند پر کفِ افسوس ملتا تھا اسے بھارت چھوڑ کر پاکستان آنا پڑا کیونکہ وہ مسلمان تھا اگر چہ نام کا سہی مگر تھا تو مسلمان۔" میں اس بات سے انکار نہیں کرتا میں نے کراچی کو بھی معاف نہیں کیا کہ وہ بمبئی نہ تھا"۔(صفحہ 299) اسے ہندوستان کی آزادی بہت پسند تھی جہاں اس پر کوئی خاصی پابندی نہ تھی کہ وہ اسلامی آداب معاشرت کے مطابق زندگی گزارے۔لیکن پاکستان جو کہ مذہب کی بنیاد پر اور اس کے عملی اظہار کیلئے بنایا گیا تھا۔یہاں اس پر پریشر بہت زیادہ تھا کہ وہ اسلامی فرائض بجالائے۔اسے اس بات پر شروع ہی سے تاسف رہا۔اس کی پاکستان اور اسلام کے خلاف گہری نفرت جلد ہی ظاہر ہو جاتی ہے : " پاکستان کے سن بلوغت کے آغاز سے ہی میں نے دنیا کی خوشبوؤں کا اندازہ لگا لیا، شدید مگر بھاری بھر کم جلد ہی غائب ہو جانیوالا عشق، اور گہری مگر دیر پا جگر خراش نفرت "۔رشدی استہزاء کے ساتھ کہتا ہے کہ کبھی بھی 'پاک سرزمین اسے اُس کا مزاج نہ مل سکے گا کیونکہ اس پر بمبئی کی مستقل چھاپ لگ چکی تھی ، اس کے دماغ میں اللہ کے مذہب کے سوا دوسرے ہر قسم کے مذاہب تھے اور یہ کہ اس کا جسم پالیدگی کی طرف فطری رغبت رکھتا تھا ، اس کی قسمت میں لکھا جا چکا تھا کہ وہ ناموزوں شخص ہی رہے گا "۔(صفحہ 301) جس چیز کا اس کو اس وقت احساس نہ تھا وہ یہ تھا کہ وہ پوری دنیا کے سامنے کچھ ہی سالوں میں نامراد اور ناموزوں شخص بن کر کئی سال تک لوگوں سے چھپتا پھرے گا۔رشدی نیکی اور بدی کے درمیان فرق کو واضح کرتا ہے اور مسلمہ طور پر گستاخانہ رنگ میں بدی کو ترجیح دیتا ہے : " مقدس : نقاب والا پردہ، حلال گوشت، مؤذن کیلئے مینار، جائے نماز۔غیر مقدس : ویسٹرن ریکارڈ ز سور کا گوشت، شراب۔مجھے اب سمجھ آگئی کہ عید الفطر سے ایک رات قبل ملا (مقدس) کیوں جہاز (غیر مقدس) پر سفر کرنے سے ہچکچاتا تھا تاوہ نئے چاند کو ضرور دیکھ سکے، بلکہ ایسی سواریوں پر بھی سوار ہونے کے لئے تیار نہیں ہوتا تھا جن کی خفیہ خوشبو غیر روحانیت کا تو ڑتھی۔مجھے اسلام اور سوشلزم میں بد بوؤں کا 98