سلمان رشدی بھوتوں کے آسیب میں

by Other Authors

Page 95 of 205

سلمان رشدی بھوتوں کے آسیب میں — Page 95

لیکن اس کے بر عکس یہ سورۃ یہ بھی کہتی ہے کہ جس طرح خدائی سزا جو مجرموں اور گنہگاروں کو دی جائیگی وہ بہت خوفناک ہوگی لیکن خدا کے انعامات جو نیک لوگوں پر نازل کئے جائیں گے وہ بھی نا قابل حساب ہوں گے : يُرْسَلُ عَلَيْكُمَا شُوَاظٌ مِّنْ نَّارِهِ وَنُحَاسٌ فَلَا تَنْتَصِرانِ (آیت 36)۔ترجمہ تم دونوں پر آگ کے شعلے برسائے جائیں گے اور ایک طرح کا دھواں بھی ، پس تم دونوں بدلہ نہ لے سکو گے۔فَإِذَا انْشَقَّتِ السَّمَاءُ فَكَانَتْ وَرْدَةً كَالدِّهَانِ (آیت:38) پس جب آسمان پھٹ جائیگا اور رنگے ہوئے چمڑے کی طرح سرخ ہو جائیگا۔وَلِمَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهِ جَنَّتن (آیت 47) جو بھی اپنے رب کے مقام سے اترتا ہے اس کیلئے دو جنتیں ہیں۔فِيهِنَّ قصِرتُ الطَّرْفِ لا لَمْ يَطْمِثْهُنَّ إِنْسٌ قَبْلَهُمْ وَ لَا جَانُ ( آیت 57) ان میں نظریں جھکائے رکھنے والی دوشیزائیں ہیں جنہیں ان سے پہلے جن وانس میں سے کسی نے مس نہیں کیا۔فَبِاتِ الْآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِ بْنِ (آیت 58) پس تم دونوں اپنے رب کی کس کس نعمت کا انکار کرو گے؟ جس طرح قرآن سزا اور ثواب کے موضوع پر روشنی ڈالتا ہے، اسی طرح رشدی حد سے زیادہ تصوراتی مگر نہایت بے جس طرز تحریر اپنے قاری کو لطف اندوز کرنے کیلئے استعمال میں لاتا ہے۔سزا سے متعلق وہ کہتا ہے : " گریمس ، بم سے ملحق بچہ یا پھر خفیہ بموں کا اسلحہ، ستون کے پائے پر " (صفحہ 294) ثواب کی وہ یوں وضاحت کرتا ہے : "رقص کا دوسراحصہ، گریمس نے طعنہ دیتے ہوئے کہا، گھونگھٹ کا رقص ہے جس میں وہ کچھ دکھلایا جاتا ہے جو بہت ہی پر لطف ہے۔" (صفحہ 294) رشدی اسی موضوع کو اپنی دیگر کتابوں مڈنائٹس چلڈرن Midnight's) Children اور تیم (Shame) میں جاری رکھتا ہے جس پر بحث آگے چل کر کتاب میں کی جائے گی۔ایسے اور ملتے جلتے مزید واقعات تلاش کئے جاسکتے ہیں۔اس بات میں کوئی شک نہیں کہ اسلام اور اس کے پاک پیغمبر کے خلاف نفرت تمسخر اور تو ہین کے بیج اسکی پہلی کتاب میں بوئے گئے تھے۔مگر پہلی کتاب کے شائع ہونے تک سلمان رشدی گمنام تھا اور اس نے ادبی حلقوں میں کوئی نام پیدا نہ کیا تھا۔خیر کچھ بھی ہو، ان لوگوں نے جنہوں نے اس کے اندر قابل اعتبار خواص اور اجزائے ترکیبی بھانپ لئے ، وہ اپنے مستقبل کے ساتھی مجرم کا اس وقت تک انتظار کر لینے کو تیار تھے جب تک کہ وہ والہانہ خوبیوں سے لیس نہ ہو جائے۔95