سلمان رشدی بھوتوں کے آسیب میں

by Other Authors

Page 85 of 205

سلمان رشدی بھوتوں کے آسیب میں — Page 85

صلى الله آنحضور ﷺ کے کردار پر تہمتیں مغربی مستشرقین اور خاص طور پر واٹ نے ، اس مواد سے خوب خوب فائدہ اٹھایا جو حضرت محمد ﷺ کی زندگی کے واقعات کی معمولی سے معمولی تفصیل بیان کرتا ہے۔محمد ﷺ کی زندگی تو ایک کھلی کتاب کی مانند تھی جسے ہر کوئی آزادی کے ساتھ پڑھ سکتا تھا۔بنی نوع انسان کی تاریخ میں کبھی کسی شخص واحد کے اعمال اور اقوال کو اس طرح نہیں پر کھا گیا جس طرح اسلام کے نبی محمد ﷺ کے اعمال واقوال کو پر کھا گیا ہے۔مغربی محققین کا یہ مقصد تو کبھی تھا ہی نہیں کہ حضرت محمد کے کردار کا کلی طور بنظر استحسان مطالعہ کریں بلکہ ہمیشہ ہی کسی نہ کسی قسم کے عیب نکالے گئے۔جب ان کو اس صح نظر میں کامیابی نہ ہوئی تو انہوں نے واقعات کو دغا بازی اور دروغ بیانی کے ساتھ مسخ کر دیا۔وہ سخت مایوس ہو کر اس نصب العین پر مرکوز ہو گئے یہاں تک کہ بعض مستشرقین نے اپنی ساری کی ساری تصانیف کو اس مقصد کیلئے وقف کر دیا۔اس قدر کہ بالآخر انہوں نے خود کو محمد (صلعم) کی جگہ تصور کر لیا۔اور اپنے خیال میں آپ کی طرح سوچنا شروع کر دیا اور اپنے جعلی اور حاسدانہ خیالات وتصورات کو جمع کر کے محمد علی کی طرف منسوب کر دیا۔در اصل حقیقی وجہ تو حسد ہے وہ کسی انسان کو ایسا کامل سمجھ ہی نہیں سکتے اور اس بات کو یقینی بنانے کیلئے کہ باقی ماندہ غیر مسلم دنیا اس جادوگر اور اس انسان کامل' کے سحر میں پھنس نہ جائے انہوں نے آپ کی مزعومہ اخلاقی گراوٹوں اور فیصلوں میں غلطیوں کو آپ کی طرف منسوب کر کے آپ کو عام لوگوں کی طرح بنا دیا۔پھر اخلاقی فروگزاشتوں نے ہی اسے موقعہ فراہم کیا کہ وہ اپنی خود تراشیده وحی کو اللہ کی طرف منسوب کر دے۔سو اس طرح اسٹینک ورسزا کا تصور معرض وجود میں آیا تھا۔شیطانی اثرات قرآن پاک کی جانچ پڑتال رسول اکرم ﷺ کے کردار کی طرح بڑھ چڑھ کر کی گئی۔اسے سوالات کی صورت میں جانچا گیا، ایک آیت کے بعد دوسری آیت، لفظ کے بعد دوسر الفظ، یہ کام مفسرین اور متقین نے کیا چاہے وہ مسلمان تھے یا غیر مسلم۔لیکن عیسائی اور یہودی محققین کا 85