سلمان رشدی بھوتوں کے آسیب میں — Page 81
دینا اذیت کا موجب ہوگا۔میرے خیال میں مجھے اس پر مزید وقت ضائع نہیں کرنا چاہئے صرف اتنا کہہ دینا کافی ہے کہ ڈاکٹر مائیکل علی کی اس تصنیف پر deja-vu ( پہلے کہیں دیکھا ہوا ہے ) ہر صفحہ پر لکھا ہوا ہے۔لیکن جہاں تک مغرب کے قابل نفرین منصوبہ کا تعلق ہے یہ کتاب نہ ہی اتنی زوردار تھی اور نہ ہی اتنی ضرر رساں تھی کہ ہلکا سا ارتعاش پیدا کر سکے یا ایسا ارتعاش جس کی کوئی اہمیت ہو۔یہ انتہائی بودی اور بمشکل نزاعی کتاب تھی۔اب کسی اور چیز کی منصوبہ بندی کرنا ضروری تھا جو اس سے زیادہ ڈرامائی اور سنسنی خیز ہو۔ایسی چیز جو ہر کسی کو چوکنا کر دے اور ہر کوئی دھیان دے۔یہ تمام منصوبوں اور سازشوں کا معراج ہو جسے اسلام کے دوخونی دشمنوں یعنی یہود اور نصاری نے مل کر تیار کیا ہو۔قبل اس کے کہ ہم اس منصوبہ کے انجام تک آئیں اجازت دیجئے کہ میں قاری کو بعض دوسرے لازمی اجزاء کا جن کا اس منصوبہ کے پھل آور ہونے کے لازمی اجزاء ہیں ان کے بارہ میں تازہ ترین معلومات مہیا کروں۔دور حاضر کے حملے ابھی تک اہل مغرب کو اسلام کی قدامت پسند سوچ میں مداخلت کرنے میں کامیابی حاصل نہ ہوئی تھی۔حریفوں کی صفوں میں کسی نہ کسی طرح شک کے بیج بونے درکار تھے۔عیسائی اقوام اس بات سے بھی آگاہ تھیں کہ اسلام میں ایک چھوٹی سی مگر زیادہ تر خاموش آزاد خیال رائے کی جماعت موجود تھی جس کے استحصال کے لئے انہوں نے بے دھڑک کوشش کی تھی۔شریعت کو اسطرح پیش کیا گیا کہ یہ تو اخلاقی نقطہ نگاہ سے عہد وسطیٰ کے نظریات سے ملتی جلتی تھی۔اس کو زندگی کے نئے سوشل ڈھانچے کے مطابق ڈھالنے کیلئے بیسویں صدی کے اختتام تک کوئی کوشش نہ کی گئی تھی۔منٹگمری واٹ کی کتاب Islamic Fundamentalism and Modernity کے اختتامی پیراگراف (صفحہ نمبر 143) میں مغربی مستشرقین سے وابستہ امیدیں اور توقعات پوری طرح افشا ہو گئیں۔: " جب عام فہم مسلمان اس امر سے آگاہ ہوتے کہ وہ بہشتی حالات جن کا ان کو وعدہ دیا گیا ہے تبھی پیدا ہو سکتے ہیں جبکہ وہ اسلام کے ابتدائی دور کی طرف رجوع کر جائیں۔جبکہ ایسے حالات کا ظہور پذیر ہونا ناممکن ہے تو ان کے جذبات میں ایسے لوگوں کے خلاف شدید نفرت پیدا ہو 81