سلمان رشدی بھوتوں کے آسیب میں — Page 80
کے لفظ لفظ میں ٹپک رہا ہے۔اس کی دیدہ دلیری ملاحظہ ہو۔وہ تجویز کرتا ہے کہ عیسائیوں کا خدا اس خدا سے بہتر ہے جس کا ذکر قرآن مجید میں ہوا ہے۔وہ کہتا ہے :" قرآن میں ہمیشہ متقیوں اور مومنوں سے خدا کے پیار کا ذکر ہوا ہے لیکن گناہ گاروں سے پیار کا کہیں بھی ذکر نہیں۔اس کے برعکس عہد نامہ جدید (انجیل ) گناہ گاروں سے خدا کے پیار کا اکثر ذکر کرتا ہے۔" (صفحہ 62) ملتے جلتے حملے صلى الله اس کے اس بودے دعوی کے جواز کی کوششیں دوسرے عیسائی سکالرز سے مختلف نہیں جنہوں نے آسانی کا راستہ یہ نکالا کہ اسلام کے نبی پاک ﷺ پر حملے بڑے بڑے افتراؤں اور کہانیوں نیز توری مروڑی ہوئی حکایات کے ذریعے کئے۔مثلاً ایک چھوٹے پیراگراف کی مختصرسی جگہ میں وہ محمد ﷺ پر کئی زمانوں سے کیا جانے والا پرانا الزام دہراتا ہے کہ وہ شہوت پرست اور ظالم تھے۔ڈاکٹر علی لکھتا ہے: "محمد کی زندگی کا سارا سانچہ سر تا پا عرب تھا۔اس کا کثرت ازدواج کرنا، اس کی داشتا ئیں ، غربت کے ایام میں اس کا مال بردار قافلوں پر حملے کرنا، اس کا نا قابل بیان ظلم اور کے ساتھ اچانک جود وسخا کی طرف میلان۔۔۔یہ تمام باتیں محمد کے کردار کی اتھاہ گہرائیوں میں رچی بسی ہو ئیں تھیں۔(صفحہ 24) ڈاکٹر مائیکل علی دیگر مغربی سکالروں سے اتفاق کرتا ہے اور شیطانی خیالات کو محمد علی کی طرف منسوب کرتا ہے۔: " اس کی وجہ یہ ہو سکتی ہے کہ پہلے تو اس نے لات، منات اور عزا کی دیویوں کو اپنے اور اللہ کے درمیان شفاعت کر نیوالا تسلیم کر لیا بعد میں اس نے کہ دیا کہ یہ آیت شیطان نے دل میں ڈالی تھی اور اسے تبدیل کر دیا۔" (صفحہ 25) مصنف نبی کریم ﷺ کے کردار کے خلاف مزید جارحیت کا مظاہرہ یوں کرتا ہے : " پریشان کر دینے والی بات یہ ہے کہ محمد نے گیارہ بیویوں سے شادی کی جو اس وحی کی خلاف ورزی تھی جس کا اس نے خدا سے ملنے کا دعویٰ کیا تھا۔اور پھر " پیغمبر کی یہ روایت بھی مشہور ہے کہ اسے تین چیزیں محبوب تھیں نماز ، عطر اور عورت"۔(صفحات 33-32) اس کے علاوہ اس قسم کا مواد پوری کتاب میں ملتا ہے ان میں سے ایک کا بھی یہاں حوالہ 80