سلمان رشدی بھوتوں کے آسیب میں

by Other Authors

Page 79 of 205

سلمان رشدی بھوتوں کے آسیب میں — Page 79

باب ہشتم سکالرز کی نئی پود مغرب میں عیسائی متقین کیلئے منٹگمری واٹ کا متبادل تلاش کر لینا یقینا ایک بہت مشکل امر رہا ہوگا، وہ ہر قسم کے راستوں اور امکانات کی تلاش میں سرگرداں رہے ہوں گے۔انہوں نے ہندو پاکستان کی اقوام میں بھی محققین کی تلاش جاری رکھی۔شاید یہ ان کا مستقبل کا منصوبہ تھا کہ ان قوموں کے اندر ہی سے چھپے غدار تلاش کریں اور رفتہ رفتہ مگر یقینی طور پر ان کی مغرب میں بے نقابی کی جائے۔ڈاکٹر مائیکل نذیرعلی۔ان متبادل محققین میں سے سب سے پہلا ڈاکٹر مائیکل نذیر علی تھا، جو پاکستان کے لاہور کیتھیڈرل کا پرووسٹ رہ چکا تھا۔اور جو برطانیہ میں پہلا ایشین ڈایوسیز کا بشپ (لاٹ پادری) بنا تھا۔اس کو یہ اعزاز جنوری 1995ء میں دیا گیا تھا۔ڈاکٹر علی کی پیدائش پاکستان میں ہوئی ، اس کا خاندان مسلمان تھا مگر اپنے باپ سمیت اوائل عمر میں ہی مذہب تبدیل کر کے عیسائی ہو گیا۔اپنی نوجوانی سے اس نے اپنی عمر کا کثیر حصہ برطانیہ میں گزارا اس لئے وہ اہل مغرب کے لئے ایک مثالی آلہ کارنکلا جس کا استحصال ممکن تھا۔اور اسکی ہمت افزائی کی گئی کہ وہ اسلام پر عیسائی نقطہ نگاہ سے طبع خیال کرے۔ڈاکٹر علی نے اپنا اکثر مواد گذشتہ مستشرقین اور بعض آزاد خیال مسلمان محققین سے مستعار لیا ہے۔لہذا اس نے جو کچھ پیش کیا وہ نہ تو نیا اور نہ ہی چونکا دینے والا تھا۔اس نے پہلی کتاب جو 1980ء میں تحریر کی اس کا عنوان تھا: Islam - A Christian Perspective جس میں وہ عیسائیوں کے اس امر پر دلی حسد کو بیان کرتا ہے کہ محمد ﷺ کے متبعین دوسرے انبیاء بشمول حضرت عیسی علیہ السلام کے مقابلہ میں کس طرح آپ کی تعظیم و تکریم زیادہ کرتے ہیں۔حسد تو کتاب 79