سلمان رشدی بھوتوں کے آسیب میں — Page 75
"اسلام کے تقریباً چودہ صدیوں کے عرصہ میں عیسائیوں نے تثلیث اور مجسم خدا میں اعتقاد کو مسلمانوں کے حملوں سے محفوظ رکھنے کی سعی کی ہے۔انہوں نے جواباً اسلام پر حملہ کرنا شروع کر دیا کہ محمد یہ دعوئی کہ وہ وحی کے نزول کا وسیلہ ہے اس کو ماننے سے انکار کر دیا جس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ اس کے کردار نے ایسا ہونا ناممکن بنا دیا۔آخر کار انہیں صداقت اور غلطی کی آمیزش میں فیصلہ کرنا تھا۔اس کی قدر و قیمت کا کیسے اندازہ لگایا جائے؟ کس طرح غلطی کا جائزہ لیا جائے؟ اور ہر ایک کی اہمیت کو کیسے متوازن کیا جائے؟ آخری نتیجہ کا کیسے جائزہ لیا جائے ؟ ان نکات کے بارہ میں عہد وسطیٰ کا نظریہ حد درجہ پائیدار نکلا اور اس کا یہ خاکہ آج تک اہل مغرب کے ثقافتی ورثہ کا حصہ ہے۔" (صفحہ 275) پروفیسر ولیم منٹگمری واٹ بلا شبہ دور جدید کے تمام مغربی مستشرقین میں سے مشہور ترین مستشرق منٹگمری واٹ ہے۔یو نیورسٹی آف ایڈنبرا (سکاٹ لینڈ) کا سابق پروفیسر عربی اور اسلامیات۔اسے مستشرقین کا آخری دیو تا قرار دیا جاتا ہے۔اس نے اسلام اور رسول کریم ﷺ کے بارہ میں کئی کتابیں تصنیف کی ہیں بشمول ,Muhammad at Mecca, Muhammad at Medina Muslim-Christian Encounters, Islamic Fundamentalism & Modernity۔پروفیسر واٹ مغرب کی اسلام کے خلاف جہد و جہد میں ان کے اسلحہ خانہ کا قابل ذکر کل پرزہ بن چکا ہے۔دراصل وہ تمام دنیا میں مسلمانوں کیلئے تازیانہ بن چکا ہے۔اس کے کام اور ریسرچ کی تعریف کرتے ہوئے دوسرے تمام مستشرقین نے اسے سر آنکھوں پر بٹھایا ہے۔وہ اسے سب سے زیادہ خراج تحسین اس طرح پیش کرتے ہیں کہ جس فریب کاری سے اس نے اسلام کے ڈھانچہ میں شکوک اور نفرت کے بیج بوئے ہیں وہ اس کی نقل اپنی کتابوں میں کرتے ہیں۔انہوں نے بڑے مایوسی کے عالم میں نبی کریم ﷺ کے کردار پر نیز ان کے صحابہ کرام (رضوان اللہ ) پر دھبے لگانے کی کوشش کی۔انہوں نے قرآن کریم میں اور حدیث کی روایات میں تضاد تلاش کرنے 75