سلمان رشدی بھوتوں کے آسیب میں

by Other Authors

Page 68 of 205

سلمان رشدی بھوتوں کے آسیب میں — Page 68

ڈاکٹر نارمن ڈینیئل (Dr Norman Daniel) ڈاکٹر نارمن ڈینیئل دوسری جنگ عظیم سے قبل کوئنیز کالج آکسفورڈ کا عالم و فاضل تھا اور بعد میں ایک عظیم مغربی مستشرق ولیم منٹگمری واٹ کا جنگ کے بعد چیلہ بن گیا۔پروفیسر واٹ اس کے پی ایچ ڈی کے مقالہ کا نگران تھا۔واٹ جیسے نگر ان کے تحت کام کر کے یہ تعجب نہیں تھا کہ ڈاکٹر ڈینیئل کی بعد میں شائع ہونے والی کتب واٹ کی مضحکہ خیز نقل ہوں جو اس نے مسلم عیسائی مناظروں میں ادبی مضامین کے بطور لکھیں۔۔ڈاکٹر ڈینئیل کی سب سے مشہور کاوش مغربی مستشرقین کے قائم کردہ عنوان کے مطابق تھی کہ یورپین ذہنوں میں اسلام کا مسخ شدہ تصور کیوں پیدا ہوا؟ اس چیز کو عیسائی معاشرہ نے اپنا عقیدہ بنالیا اور یہی وہ سب کچھ ہے جس کی ڈاکٹر ڈینیل نے خاکہ کشی کی ہے۔لیکن جلد ہی یہ امر واضح ہو گیا کہ طریقہ واردات تو ایک ہی ہے، دلائل بھی ایک جیسے ہیں ، مواد کے محدود ماخذ بھی ایک ہی ہیں اور مشکوک مقاصد جو نمایاں ہوئے وہ بھی ایک جیسے ہیں۔ڈاکٹر ڈے نیل کی اس تصنیف کا نام ہے: : 1960 ,Islam & the West - The Making of an Image۔اس کتاب میں ڈاکٹر ڈینئیل نے اسلام کے بارہ میں اڑھائی سوسال کے عرصہ 1350-1100ء کے دوران مغربی نظریات کی تشکیل کا جائزہ پیش کیا ہے۔اسلام کا تصور (1350-1100ء) ڈاکٹر ڈینئیل مذکورہ عرصہ کے دوران اسلام کے خلاف عوام میں مقبول اور مسخ شدہ تصور کا حوالہ پیش کر کے کتاب کو شروع کرتا ہے۔مثلاً قرآن پاک کے خالص اور منجانب اللہ ہونے کے بارہ میں شکوک کا اظہار کیا گیا کہ یہ خدا تعالیٰ کی طرف سے نازل شدہ کتاب ہے نیز ان روایات کے بارہ میں بھی جن کا ذکر احادیث میں پایا جاتا ہے۔مزید برآں سرور کائنات ﷺ کے کردار کے پاک وصاف ہونے کے بارہ میں شکوک پیدا کئے گئے۔بارھویں اور چودھویں صدی کے درمیانی عرصہ میں یہ عام ہوا چل نکلی تھی کہ نبوت کا کوئی ٹیسٹ ہونا چاہئے۔اس کا معیار قائم کرنے کیلئے پیمانہ بنالیا گیا جس کے مطابق انبیاء کرام پر فیصلہ اس معیار کے مطابق صادر کیا جانے لگا۔اگر بالفرض عیسائی مناظر 68