سلمان رشدی بھوتوں کے آسیب میں

by Other Authors

Page 65 of 205

سلمان رشدی بھوتوں کے آسیب میں — Page 65

سر محمد ظفر اللہ خاں جو مذاہب عالم کے ایک بلند پایہ احمدی عالم تھے انہوں نے رسول اکرم کے کردار کی شرافت کی متناسب منطقی دلیل اور آپ ﷺ کے کردار کی شرافت پر نظر غائر ڈالی ہے۔انہوں نے اس طرح سے ان بہتانوں سے شکوک کو رفع کیا ہے جو اس خدا کی صلى الله شریف ترین مخلوق پر لگائے گئے۔انہوں نے اپنی مشہور کتاب امحمد خاتم النبین ' میں آنحضور علی کی زندگی کا بہترین جائزہ پیش کرتے ہوئے درج ذیل دلیل پیش کی ہے: " ما سوائے حضرت سودہ کے ساتھ آپ کی شادی کے ، جو ایک نیک معمر، غریب بیوہ تھیں جن کی شادی کے بعد کی تمام ہونے والی شادیاں مدینہ میں ہجرت کے بعد عمل میں آئیں۔مدینہ میں آپ کس قدر مصروف کار تھے اور کس قسم کی زندگی بسر کر رہے تھے ؟ ایک عام قاری بھی آپ کی بھاری ذمہ داریوں سے گہرے طور پر متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا۔آپ کا اپنی ذمہ داریوں کو محنت کے ساتھ نبھانا، آپ کا متبعین کو اپنے مذہب کی تعلیمات سکھلانا، غیر معمولی مصروفیت کے ساتھ ان کی روحانیت اور اخلاق کی پند و نصیحت کے ذریعہ مدد کرنا، روزانہ پانچ وقت کی نمازوں کی امامت کرنا، مدینہ کی مختلف النوع آبادی کے معاملات کے نظم ونسق کو چلانا، رات کے بیشتر حصہ میں نفلی نمازیں ادا کرنا ، ان سب کا سوچ کر خیال آتا ہے کہ آپ اپنی بیویوں کی صحبت میں بھلا کتنا وقت گزارتے ہوں گے، آپ اپنے وقت کا اور کیا مصرف نکالتے ہوں گے۔۔۔نبی کریم ﷺ کی زندگی صرف سادہ زندگی کا ہی نمونہ نہ تھی بلکہ ایک سخت زہد کی بھی۔انہوں نے کسی قسم کی بے اعتدالی کی اجازت نہ دی۔نہ ہی اپنے آپ کو اور نہ ہی اپنی بیویوں کو حضرت عائشہؓ سے روایت ہے کہ رسول اکرم یہ ایک کنواری سے زیادہ حیادار تھے۔کیا یہ ایسے شخص کی وضع قطع ہوگی جو شہوانی خواہشات میں ڈوبا ہوا ہو۔اور کئی عورتوں سے شادی کر کے جنسی خواہشات کی تشفی کے لئے ہر موقعہ کی تلاش میں رہتا ہو" (Zafrulla Khan, Muhammad - Seal of the Prophets, page 280) قرآن پاک پر حملے میکسم رو ڈنسن نے قرآن پاک کی عصمت و پاکیزگی کے متعلق شکوک پیدا کر کے اسلام پر حملوں کو جاری رکھا ہے۔وہ یورپین مستشرقین کی کتب کو مسلمان مفسرین ( قرآن ) کی کتب پر ترجیح 65