سلمان رشدی بھوتوں کے آسیب میں

by Other Authors

Page 50 of 205

سلمان رشدی بھوتوں کے آسیب میں — Page 50

ساتھ لوگوں کے لگاؤ کا اظہار ہوتا ہے اور یہ ایک ایسی خصوصیت ہے جس سے انہیں اپنی شخصیت کی پہچان کا احساس ہوتا ہے۔اسلامی بنیاد پرستی کی طرف واپسی سے عورتوں کے مقام پر نمایاں اثر پڑا ہے۔برقعے کا پھر سے فیشن ہو گیا۔اسلام میں عورت کے مزعومہ درجہ دوم کے شہری ہونے کے متعلق اہل مغرب کی جانب سے شدید پراپیگنڈہ کے باوجود مغرب میں گزشتہ دہائی میں عورتیں اس تعداد میں حلقہ بگوش اسلام ہو رہی ہیں کہ اہل مغرب کے لئے یہ سب سے زیادہ باعث تشویش اور خطرہ کا معاملہ بن گیا ہے اور وہ اس کی روک تھام کی ضرورت شدت سے محسوس کرنے لگے ہیں۔نکته نزاع نسلی اقلیتوں کے خلاف برطانویوں کو سب سے بڑی شکایت یہ ہے کہ وہ ان کے ملک میں رہنے اور آباد ہونے کی نیت سے آتے ہیں مگر وہ اپنے میزبان ملک کے اطوار اور طریقوں کو اپناتے نہیں تا کہ وہ نئی سوسائٹی میں آسانی سے قبول کئے جاسکیں۔خواہ قبول ہونے کا مطلب یہ ہو کہ وہ اپنی بعض یا تمام پرانی روایات اور مذہبی اعتقادات کو خیر باد کہہ دیں۔اس کا ہدف علی الخصوص برطانوی مسلمان ہیں جنہیں وہ ضدی اور مغربی تہذیب کے طرز کی سوسائٹی کے قیام میں رکاوٹ سمجھتے ہیں۔اہل مغرب کو مسلمانوں کی جو فکر اور تشویش لاحق ہے وہ حقیقی ہے۔انہیں پتہ ہے کہ مسلمانوں کی اکثریت جو مغرب میں سکونت پذیر ہے وہ اس کو خدا کا منکر معاشرہ سمجھتے ہیں۔اسلام ایسی روحانی رہ نمائی مہیا کرتا ہے جو دوسرے مذاہب فراہم نہیں کر سکتے۔انہیں یہ فکر بھی لاحق ہے کہ جب مؤذن مومنین کو نماز کے لئے بلاتا ہے تو اس کی آواز میں گر جا گھر کی گھنٹیوں کی آواز گم ہو جاتی ہے۔ایسے مسلمان جو مغرب میں رہائش پذیر ہیں ، اقدار کے معیار کو محفوظ کرنے اور دنیا کا اسلامی زاویہ نگاہ محفوظ کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔بلاشبہ مسلمان چاہتے ہیں کہ ان کو ( بہ حیثیت ) انسان پسند کیا جائے ، وہ گھل مل جانا چاہتے ہیں، اور ( زندگی میں ) کامیابی سے ہمکنار ہونا چاہتے ہیں۔لیکن ان تمام باتوں سے بڑھ کر وہ 50