سلمان رشدی بھوتوں کے آسیب میں — Page 188
کے یہ اس کی شہرت کی عمارت کی بنیادی اینٹ تھی (G۔Dougry, The incredible lightness of Salman, The Times, September 2005) وہ ہر گز نہیں چاہتا تھا کہ اس کو کسی بھی صورت میں نشانہ تنقید بنایا جائے۔یہ بات یوں ثابت ہوتی ہے جس طرح کی تنقید وہ دوسروں پر کرتا ہے۔مثلاً رشدی نے ایک مصنف پال سکاٹ کی کتاب " راج کوارٹٹ " Raj Quartet پر نقادانہ رائے کا اظہار کیا اور یہ کہنا چاہا کہ ہندوستان کے متعلق صرف ایک زاویہ سے لکھا جا سکتا ہے۔یعنی اگر مصنف کا نقطہ نظر رشدی کے طے کردہ اصولوں سے مطابقت نہیں رکھتا تو یہ قابل قبول نہیں ہو سکتا۔جس طرح کہ ہم سب جانتے ہیں اس کے بعد جس طرح پردہ اخفا اٹھا یہ دی سٹینک ورسز کا مصنف اور اس کے حامی تھے جنہوں نے یہ دلیل پیش کی کہ ایک جمہوری معاشرہ میں آزادی پر رحم و عفو کی طرح کوئی پابندی نہیں ہوسکتی۔کسی ادیب کو کسی بھی موضوع پر کسی بھی نقطہ نظر سے اظہار خیال کی اجازت ہونی چاہئے ، خواہ اس سے کسی کا دل دکھے۔" (G۔Dougry, The incredible lightness of Salman, The Times, September 2005) اس کی کتابوں کے ناقدین کے پیش نظر اس کے اعتراض پر ایک اور دلچسپ نکتہ سامنے آتا ہے۔یہاں اس کے اعتراض پر پوری توجہ سے غور فرمائیں۔جب اس سے اس کی انشا پردازی کے اولین دور میں استفسار کیا گیا تو اسے یاد آیا کہ اس کے غصے کی وجہ اس کے پہلے ناول ' گریمس (Grimus ) کے بارے میں لوگوں کا رد عمل تھا۔لوگ کہہ رہے تھے کہ 'جاؤ کوئی اور ذریعہ معاش تلاش کرو۔۔مجھے یہ بات اچھی طرح یاد ہے۔اور اب میں گذرے وقت پر غور کرتا ہوں تو کہتا ہوں کہ چوٹ کے بدلے چوٹ لگانے کی کوشش مت کرو کیونکہ تم ہی نقصان اٹھاؤ گے"۔شاید اتنا وقت گزرنے کے بعد اس کو احساس ہوا ہے کہ وہ مصنفین کی برادری کے سامنے اپنا کیس عمدہ طریق سے پیش نہیں کر سکا۔لیکن قسمت میں شاید یہی لکھا تھا اس قسم کی جرات جس کا اس نے اظہار کیا ، اس سے وہ ان طاقتوں کی نگاہ میں آگیا جنہوں نے اس کو آخر کار قربانی کا بکرا بنادیا ( جس کے لئے وہ برضا ورغبت حاضر تھا)۔اس بارہ میں رشدی خود کہتا ہے : " کچھ قسم کی بے خوفی اس فیصلہ میں مضمر تھی کہ مقابلہ پر ڈٹ جاؤں۔پہلی کتاب کی ناکامی کے بعد اور پھر اس کے بعد دو ایک اور بے سود کوششوں یا چیزوں 188)