سلمان رشدی بھوتوں کے آسیب میں

by Other Authors

Page 183 of 205

سلمان رشدی بھوتوں کے آسیب میں — Page 183

اٹھارھواں باب حرف آخر قارئین کرام! یہ کتاب جو آپ کے ہاتھوں میں ہے یہ دس سال قبل 1997ء میں شائع ہوئی تھی۔اس لئے میں نے مناسب سمجھا کہ اس کے شائع شدہ حرف آخر پر نظر ثانی کی جائے تا یہ دیکھا جا سکے کہ اس عرصہ میں کیا کچھ رونما ہوا ہے۔بلاشبہ جہاں تک اسلام اور مغرب کا تعلق ہے اس عرصہ میں اتنے واقعات رونما ہوئے ہیں کہ ان کا ذکر سیبوں سے لدی ہوئی گاڑی کو دھکا دینے کے مترادف ہوگا۔واقعات اتنے بے شمار ہیں کہ کسی ایک واقعہ یا حادثہ پر توجہ مرکوز کر دینا مشکل معلوم ہوتا ہے۔جہاں تک کتاب کے متن کا سلمان رشدی سے تعلق ہے اس کو ٹیکس ادا کرنے والے شہریوں کے خرچہ پر حکومت نے دن رات کے چوبیس گھنٹے حفاظت مہیا کی ہوئی تھی۔اس کو اس بات کی بھی اجازت تھی کہ وہ مضامین لکھتا رہے، مزید کتابیں شائع کرتا رہے ، اور پہلے سے بڑھ کر عوام الناس سے مخاطب ہوتا رہے۔کچھ ہی عرصہ قبل اس کو مشہور زمانہ ٹیلی ویژن بی بی سی کے پروگرام Question Time میں بطور مہمان آنے کی دعوت دی گئی تھی۔اس پروگرام میں اس نے ایک بار پھر اسلام کا مذاق اڑایا اور دعویٰ کیا کہ یہ مذہب ایک بار پھر تعصب کی گہرائیوں میں گرتا جا رہا ہے۔اس نے برطانیہ میں مسلمان لیڈروں کو نشانہ تضحیک بناتے ہوئے کہا کہ " ان لیڈروں کی بات کوئی بھی نہیں سنتا۔مسلمان کمیونٹی کی نمائندگی کے لئے یہاں کوئی ایک بھی تنظیم نہیں ہے"۔( ستم ظریفی کی بات یہ ہے کہ اس کے اس بیان میں کچھ صداقت ضرور ہے۔جیسا کہ ہم سب جانتے ہیں کہ ایسے تمام مسلمان جو ایک مسیح اور مہدی کے نزول کے انتظار میں امید سے ہیں وہ بالکل گمراہ ہو چکے ہیں۔ان کو ایک متحدہ آواز اور ایک لیڈر کی ضرورت ہے جو ان کے جذبات کی نمائندگی کر سکے )۔183)